صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
329. باب الأدعية - ذكر الأمر بسؤال العبد ربه جل وعلا الهداية والعافية والولاية فيمن رزق إياها
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا سے ہدایت، عافیت اور اس کی ولیوں میں شامل ہونے کی دعا مانگے جنہیں اس نے یہ رزق دیا
حدیث نمبر: 945
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ بُرَيْدَ بْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِي، فَانْتَزَعَهَا بِلُعَابِهَا، فَطَرَحَهَا فِي التَّمْرِ، وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ: " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ" . قَالَ شُعْبَةُ: وَأَظُنُّهُ قَالَ:" تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ السَّعْدِيُّ، وَأَبُو الْجَوْزَاءِ اسْمُهُ: أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُمَا جَمِيعًا تَابِعِيَّانِ بَصْرِيَّانِ.
ابوحوراء سعدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا بات یاد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات یاد ہے، ایک مرتبہ میں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی تھی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھجور کو لعاب سمیت باہر نکال دیا تھا اور اسے انہی کھجوروں میں رکھ دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعا تعلیم دیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ» ”اے اللہ! جنہیں تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا کر، اور جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا کر، اور جن کا تو نگران ہے ان میں سے میرا بھی نگران بن جا، تو نے جو کچھ عطا کیا ہے اس میں میرے لیے برکت رکھ دے، اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا لے، بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور یقیناً جس کا تو نگران ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا۔“ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوحوراء ربیعہ بن شیبان سعدی ہیں اور ابوالجوزاء کا نام اوس بن عبداللہ ہے، اور یہ دونوں حضرات تابعی ہیں اور دونوں بصرہ کے رہنے والے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 945]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 300، 301، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1095، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 722، 945، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2180، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1744، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1425، والترمذي فى (جامعه) برقم: 464، 2518، 2518 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1178، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1740» «رقم طبعة با وزير 941»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1281).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، ومحمد: هو ابن جعفر الهذلي مولاهم البصري الملقب بغندر.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 945 in Urdu
ربيعة بن شيبان السعدي ← الحسن بن علي الهاشمي