🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. التعوذ من الكفر والفقر ، وعذاب القبر
کفر، فقر اور عذاب قبر سے پناہ مانگنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكِّي (2) ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق بن خُزَيمة قالا: حدثنا أبو الخطَّاب زياد بن يحيى الحَسّاني. وحدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد وإبراهيم بن أبي طالب قالا: حدثنا زياد بن يحيى الحَسّاني، أخبرنا مالك بن سُعَير، حدثنا الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أيها الناسُ، إنما أنا رحمةٌ مُهداةٌ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرطهما، فقد احتجَّا جميعًا بمالك بن سُعَير، والتفرُّد من الثقات مقبول (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 100 - على شرطهما وتفرد الثقة مقبول
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تو بس (اللہ کی طرف سے) عطا کی گئی ایک رحمت ہوں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے مالک بن سعیر سے احتجاج کیا ہے اور ثقہ راوی کا منفرد ہونا مقبول ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 100]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 100 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ب) والمطبوع إلى: المزني.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) اور مطبوعہ نسخے میں لفظ کی تحریف ہوگئی ہے اور اسے "المزنی" لکھ دیا گیا ہے۔
(3) صحيح مرسلًا، مالك، مالك بن سعير مختلف فيه، قال أبو زرعة وأبو حاتم الرازيان والدارقطني: صدوق، وذكره ابن حبان في "الثقات"، لكن ضعَّفه أبو داود وقال الأزدي: عنده مناكير. قلنا: وقد خولف في وصله كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: "مرسل" ہونے کی صورت میں یہ صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی مالک بن سعیر کے بارے میں اختلاف ہے؛ ابو زرعہ، ابو حاتم رازی اور دارقطنی نے انہیں "صدوق" کہا، ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا، لیکن ابوداؤد نے انہیں ضعیف قرار دیا اور ازدی کے بقول ان کی روایات منکر ہوتی ہیں۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ اس روایت کو متصل (وصل) بیان کرنے میں ان کی مخالفت کی گئی ہے۔
وأخرجه الترمذي في "العلل الكبير" (685)، والبزار في "مسنده" (9205)، وابن الأعرابي في ¤ ¤ "معجمه" (2450)، والرامهرمزي في "أمثال الحديث" (13)، والطبراني في "الأوسط" (2981)، و"الصغير" (264)، وأبو طاهر المخلِّص في "المخلّصيات" (2989)، والقضاعي في "مسند الشهاب" (1160) و (1161)، والبيهقي في "الدلائل" 1/ 157 - 158، و"شعب الإيمان" (1340)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 5/ 400 - 401 من طرق عن زياد بن يحيى الحسّاني، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ائمہ کی ایک بڑی جماعت (ترمذی، بزار، ابن الاعرابی، رامہرمزی، طبرانی، مخلص، قضاعی، بیہقی اور ابن عساکر) نے زیاد بن یحییٰ حسانی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الرامهرمزي (13)، والآجري في "الشريعة" (1000) من طريق مؤمل بن إهاب، عن مالك بن سعير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے رامہرمزی اور آجری نے "الشریعہ" (1000) میں مؤمل بن ایہاب عن مالک بن سعیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وخالف مالكَ بنَ سعير وكيعٌ فرواه عن الأعمش عن أبي صالح عن النبي ﷺ مرسلًا، أخرجه ابن سعد في "الطبقات" 1/ 192، وابن أبي شيبة 6/ 325، وابن الأعرابي (1088)، والبيهقي في "الدلائل" 1/ 157، و"الشعب" (1339) من طرق عن وكيع به قال الدارقطني في "العلل" 10/ 105 (1897): وهو الصواب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: وکیع بن جراح نے مالک بن سعیر کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اعمش عن ابی صالح کے طریق سے "مرسل" روایت کیا ہے (جسے ابن سعد، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے نقل کیا ہے)۔ 📌 اہم نکتہ: امام دارقطنی نے "العلل" (10/105) میں صراحت کی ہے کہ مرسل ہونا ہی درست ہے۔
وخالف عبدُ الله بن نصر الأصمُّ فرواه عن وكيع موصولًا بذِكْر أبي هريرة، أخرجه ابن عدي في "الكامل" 4/ 230، وعبد الله بن نصر هذا منكر الحديث، وقال ابن عدي: غير محفوظ عن وكيع.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن نصر الاصم نے (دیگر راویوں کی) مخالفت کرتے ہوئے اسے وکیع کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ "موصول" (متصل) روایت کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عدی نے "الکامل" (4/230) میں روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: عبداللہ بن نصر "منکر الحدیث" راوی ہے، اور ابن عدی فرماتے ہیں کہ وکیع سے اس کا (موصولاً) روایت کرنا "غیر محفوظ" ہے۔
وتابع وكيعًا على إرساله عليُّ بن مُسهِر عن الأعمش عند الدارمي في "مسنده" (15).
🧩 متابعات و شواہد: وکیع کی "ارسال" (مرسل روایت کرنے) پر علی بن مسہر نے اعمش کے واسطے سے متابعت کی ہے، جیسا کہ امام دارمی کی "مسند" (15) میں موجود ہے۔
فهذان - وكيع وعلي بن مسهر - ثقتان أرسلاه، فيقضى لهما على مالك بن سعير وهو أدنى منهما رتبة في الثقة والضبط، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: وکیع اور علی بن مسہر دونوں ثقہ راوی ہیں جنہوں نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے، لہٰذا ان کی بات کو مالک بن سعیر پر ترجیح دی جائے گی، کیونکہ مالک ثقاہت اور ضبط میں ان دونوں سے کم تر درجے کے ہیں، واللہ اعلم۔
ويشهد له حديث معبد بن خالد الجَدَلي - أحد الأثبات من التابعين - عن النبي ﷺ مرسلًا أيضًا، أخرجه ابن سعد 1/ 163، وسنده إلى معبد صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید معبد بن خالد جدلی (جو کبارِ تابعین اور ثقہ راویوں میں سے ہیں) کی مرسل روایت سے ہوتی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (1/163) نے روایت کیا ہے، اور معبد تک اس کی سند صحیح ہے۔
قوله: "مُهداة" بضم الميم، يعني: أُهديت لكم، كما جاء في بعض الروايات، وقال الرامهرمزي في "أمثال الحديث": اتفقت ألفاظهم في ضمِّ الميم من قوله: "مُهداة" إلَّا ابن البرتي - أحد رواة الحديث عنده - قال: "مِهْداة" بكسر الميم، من الهِداية، وكان ضابطًا فَهِمًا متصرِّفًا في الفقه واللغة، والذي قاله أجود في الاعتبار، لأنه بُعث ﷺ هاديًا كما قال الله ﷿: ﴿وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾ [الشورى: 52]، وكما قال ﷿: ﴿وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ﴾ [النحل: 44]، و ﴿لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾ [إبراهيم: 1]، وأشباه ذلك، ومن رواه بضم الميم إنما أراد أنَّ الله ﷿ أهداه إلى الناس، وهو قريب.
📝 نوٹ / توضیح: قول "مُهداة" (میم کے ضمہ کے ساتھ) کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کے لیے اللہ کا تحفہ بنا کر بھیجے گئے۔ رامهرمزی کے بقول اکثر کے ہاں یہی لفظ ہے، جبکہ ابن البرتی نے اسے "مِهداة" (میم کے کسرہ کے ساتھ) پڑھا ہے جو "ہدایت" سے مشتق ہے، اور یہ معنی بھی جاندار ہے کیونکہ آپ ﷺ ہادی بنا کر بھیجے گئے جیسا کہ قرآن میں ہے: "اور بے شک آپ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں"۔ بہر حال پہلا معنی (تحفہ) بھی اس کے قریب ہی ہے۔
(1) لكنه لم يتفرد به بل خولف فيه فأرسله من هو أوثق منه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اگرچہ یہ راوی اس میں تنہا نہیں ہے، مگر اس کی مخالفت کی گئی ہے اور جو اس سے زیادہ ثقہ راوی ہیں انہوں نے اسے "مرسل" ہی روایت کیا ہے۔