🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. فضيلة كفاف العيش والقناعة
سادہ زندگی اور قناعت کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 99
حدثني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ وأبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار قالا: حدثنا الحسين بن فَضْل البَجَلي. وأخبرنا أبو محمد جعفرُ (3) بن إبراهيم الحذّاء بمكة، حدثنا محمد بن سليمان ابن الحارث، حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عثمان الشَّحّام، عن مسلم بن أبي بَكْرة، عن أبي بَكْرة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"اللهمَّ أعوذُ بك من الكُفْر والفَقْر، وعذابِ القَبْر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ مسلمٌ بعثمان الشَّحَّام.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 99 - على شرط مسلم
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں کفر، فقر (تنگدستی) اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، حالانکہ امام مسلم نے عثمان الشحام سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 99]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 99 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في (ع) و (ب): أبو محمد بن جعفر، وفي "إتحاف المهرة" للحافظ ابن حجر (17141): أبو محمد بن أبي جعفر. وكله خطأ والصواب ما أثبتنا كما في (ص)، وهو - والله أعلم - أبو محمد جعفر بن أحمد بن إبراهيم، نُسب هنا إلى جدّه، وله ترجمة في "تاريخ بغداد" للخطيب 8/ 152 و"غاية النهاية" لابن الجزري 1/ 190، وذكر الخطيب أنه عاش إِلى سنة خمسين وثلاث مئة ومات قريبًا من ذلك، إلَّا أنه لم يصفه بالحذّاء، ووصفه ابن الجزري بالخصّاف، والخصّاف: مَن يَخصِف النعل، أي: يخرزها، وهي مهنة الحذّاء نفسها.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ع) اور (ب) میں نام "ابومحمد بن جعفر" اور ابن حجر کی "اتحاف المہرہ" میں "ابومحمد بن ابی جعفر" درج ہے، جو کہ غلط ہے۔ درست نام "ابومحمد جعفر بن احمد بن ابراہیم" ہے، یہاں انہیں ان کے دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان کے حالات "تاریخ بغداد" اور "غایہ النہایہ" میں موجود ہیں۔ ابن جزری نے انہیں "الخصاف" (جوتا گانٹھنے والا) لکھا ہے، جو کہ "الحذاء" (جوتے بنانے والا) کا ہم معنی پیشہ ہے۔
(1) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه ابن حبان (1028) من طريق إبراهيم بن الحجاج السامي، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان نے (1028) میں ابراہیم بن حجاج سامی کے واسطے سے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 34/ (20381) و (20409) و (20447)، والترمذي (3503)، والنسائي (1271) و (7841) و (7849) من طرق عن عثمان الشحام، به - وعند بعضهم: أنَّ النبي ﷺ كان يدعو بها في دُبُر الصلاة. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ترمذی (3503) اور نسائی نے عثمان الشحام کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: بعض روایات میں صراحت ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز کے آخر میں یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وأخرجه ضمن حديثٍ: أحمد 34/ (20430)، وأبو داود (5090)، والنسائي (10332) من طريق عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں امام احمد، ابوداؤد (5090) اور نسائی نے عبدالرحمن بن ابی بکرہ عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق مسلم بن أبي بكرة برقم (940).
📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (940) پر مسلم بن ابی بکرہ کے طریق سے آئے گی۔