🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
104. لم يهلك أهل الكتاب إلا أنه لم يكن بين صلاتهم فصل
اہلِ کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان کوئی فصل نہ تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1009
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا عبد الوهاب بن نَجْدة، حدثنا أشعَثُ بن شُعبة، حدثنا المِنهال بن خَليفة، عن الأزرَق بن قيس قال: صلَّى بنا إمامٌ لنا يُكنَى أبا رِمْثةَ، قال: صلَّيتُ هذه الصلاةَ -أو مثلَ هذه الصلاة- مع رسول الله ﷺ، قال: وكان أبو بكر وعمرُ يقومانِ في الصفِّ المقدَّمِ عن يمينه، وكان رجل قد شَهِدَ التكبيرةَ الأُولى من الصلاة، فصلَّى نبيُّ الله ﷺ ثم سلَّم عن يمينه وعن يساره حتى رأينا بياضَ خدِّه، ثم انفَتَلَ كانفتال أبي رِمْثة -يعني نفسَه- فقام الرجلُ الذي أدرَكَ معه التكبيرةَ الأُولى من الصلاة يَشفَعُ، فوَثَبَ إليه عمرُ فأخذ بمَنكِبِه فهزَّه، ثم قال: اجلِسْ، فإنه لم يَهلِكْ أهلُ الكتاب إلَّا أنه لم يكن بين صَلَواتهم فَصْلٌ، فرفع النبيُّ ﷺ بصرَه فقال:"أصاب اللهُ بك يا ابنَ الخطَّابِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 996 - المنهال ضعفه ابن معين وأشعث فيه لين والحديث منكر
ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے ایک امام نے نماز پڑھائی جن کی کنیت ابورمثہ تھی، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ نماز -یا اس جیسی نماز- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب پہلی صف میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے تھے، ایک شخص نماز کی تکبیر اولیٰ میں شامل تھا، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی اور اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح مڑے جس طرح ابورمثہ -یعنی خود راوی- مڑے، تو وہ شخص جس نے تکبیر اولیٰ پائی تھی وہ (سنتیں یا نفل) پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لپک کر اس کے پاس پہنچے اور اس کا کندھا پکڑ کر اسے جھنجھوڑا، پھر فرمایا: بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ مبارک اٹھائی اور فرمایا: اے خطاب کے بیٹے! اللہ نے تمہارے ذریعے (حق بات) تک پہنچا دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1009]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1009 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) أصل الحديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنهال بن خليفة، وقد خولف كما سيأتي، وقال الذهبي في "تلخيصه": المنهال ضعَّفه ابن معين، وأشعث فيه لين، والحديث منكر.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اصل حدیث صحیح ہے مگر یہ سند منہال بن خلیفہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علامہ ذہبی نے اسے "منکر" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (1007) عن عبد الوهاب بن نجدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1007) نے عبدالوہاب بن نجدہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخالف عبدُ الله بن سعيد بن أبي هند عند عبد الرزاق (3973)، وشعبةُ بن الحجاج عند أحمد 38/ (23121) وأبي يعلى (7166)، كلاهما عن الأزرق بن قيس، عن عبد الله بن رباح، عن رجل من أصحاب النبي ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى العصر، فقام رجل يصلِّي، فرآه عمر فقال له: اجلس فإنما هلك أهلُ الكتاب أنه لم يكن لصلاتهم فصلٌ، فقال رسول الله ﷺ: "أحسَنَ ابنُ الخطَّاب". وهذا إسناد صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی ایک "صحیح سند" موجود ہے جو عبدالرزاق اور شعبہ نے ازرق بن قیس عن عبداللہ بن رباح عن رجل من الصحابہ کی سند سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے ایک شخص کو عصر کے فوراً بعد نفل پڑھتے دیکھ کر روکا تاکہ فرض اور نفل میں فرق رہے، جس پر نبی ﷺ نے حضرت عمر کی تائید فرمائی۔