🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
106. وضع اليدين ونصب القدمين فى الصلاة
نماز میں ہاتھ رکھنے اور پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1014
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن أبي حمزة، عن أبي صالح قال: كنت عند أمِّ سَلَمة، فدَخَلَ عليها ذو قَرابةٍ لها شابٌّ ذو جُمَّةٍ، فقام يصلِّي فنَفَخَ، فقالت: يا بُنيَّ، لا تَنفُخْ، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول لعبدٍ لنا أسود:"أيْ رباحُ، تَرِّبْ وجهَك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1001 - صحيح
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ ان کا ایک نوجوان رشتہ دار جس کے سر پر لمبے بال تھے اندر آیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا تو (سجدہ گاہ سے مٹی ہٹانے کے لیے) پھونک مارنے لگا، انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! پھونک نہ مارو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ایک سیاہ فام غلام سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اے رباح! اپنے چہرے کو خاک آلود کر (یعنی مٹی نہ جھاڑ)۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1014]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1014 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي حمزة: وهو ميمون الأعور، إلّا أنه لم ينفرد بهذا الحديث، فقد تابعه غير واحدٍ عن أبي صالح، وأبو صالح هذا: هو مولى طلحة ابن عبيد الله، ويقال: مولى أم سلمة، يقال: اسمه زاذان، ويقال: ذكوان، وهو غير السَّمَان، وقد روى عنه هذا الحديث جماعةٌ وذكره ابن حبان في "الثقات"، ولم يجرحه أحد، فمثله يرقى حديثه إلى التحسين، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ "حدیث حسن" ہو سکتی ہے؛ میمون الاعور (ابوحمزہ) ضعیف ہیں مگر وہ اس میں تنہا نہیں، ابوصالح (مولیٰ طلحہ) سے کئی دیگر راویوں نے اسے روایت کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں۔
وقد اختُلف في اسم العبد، فقيل: اسمه رباح، كما هو هنا، وقيل: يسار، وقيل: أفلح، ولا يضرُّ هذا الخلاف، فالحاصل أنَّ رسول الله ﷺ قال له: "ترِّب وجهك".
📝 (توضیح): اس غلام کے نام میں اختلاف ہے (رباح، یسار یا افلح) مگر اس سے اصل حکم پر فرق نہیں پڑتا کہ آپ ﷺ نے اسے "پیشانی مٹی سے آلودہ کرنے" (یعنی سجدے میں مٹی نہ جھاڑنے) کا حکم دیا۔
وأخرجه أحمد 44/ (26744)، والترمذي (381) و (382) من طرق عن ميمون أبي حمزة، بهذا الإسناد. وأعلَّه الترمذي بميمون هذا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (26744/44) اور ترمذی نے میمون ابوحمزہ کی سند سے روایت کیا ہے، مگر ترمذی نے میمون کی وجہ سے اسے معلول کہا۔
وأخرجه أحمد (26572) من طريق سعيد بن عثمان الورّاق، وابن حبان (1913) من طريق داود بن أبي هند، كلاهما عن أبي صالح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے سعید الوراق اور ابن حبان (1913) نے داؤد بن ابی ہند عن ابی صالح کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو يعلى (6954) عن كامل بن طلحة الجَحدري، عن حماد بن سلمة، عن عاصم -وهو ابن بهدلة- عن أبي صالح، به. فإن كان الجحدري حفظه فهذا راوٍ رابع لهذا الحديث عن أبي صالح، لكن الجحدري قد خولف فيه عن حماد، فقد رواه عفان عن حمادٍ عند أحمد (26744) فقال فيه: أبو حمزة عن أبي صالح.
⚠️ سندی اختلاف: ابویعلیٰ نے کامل الجحدری عن حماد بن سلمہ عن عاصم عن ابی صالح کی سند سے اسے نقل کیا ہے، مگر دیگر راویوں نے اسے ابوحمزہ عن ابی صالح ہی کہا ہے۔
قوله: فنفخ، أي: في الأرض ليزول عنها التراب فيسجد. ¤ ¤ وقوله: "ترِّب ووجهك" من التقريب أي: أوصِلْه إلى التراب وضعه عليه.
📝 (توضیح): "فنفخ" کا مطلب ہے زمین پر پھونک مارنا تاکہ مٹی اڑ جائے، اور "ترِّب وجہک" کا مطلب ہے کہ اپنے چہرے کو مٹی سے مس کرو (یعنی مٹی پر سجدہ کرو)۔