المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. سيد الأيام يوم الجمعة وفيه تقوم الساعة
دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے، اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔
حدیث نمبر: 1039
حدثنا أبو العباس محمدُ بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن موسى بن أبي عثمان، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"سيِّدُ الأيام يومُ الجُمُعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه أُدخِلَ الجنة، وفيه أُخرِجَ منها، ولا تقومُ الساعةُ إلّا يومَ الجمعة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد استشهد بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد ولم يُخرجا:"سيّد الأيام".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1026 - واستشهد مسلم بابن أبي الزناد
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد استشهد بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد ولم يُخرجا:"سيّد الأيام".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1026 - واستشهد مسلم بابن أبي الزناد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام دنوں کا سردار جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی میں وہ جنت میں داخل کیے گئے، اسی میں وہاں سے نکالے گئے، اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی زناد سے استشہاد کیا ہے، لیکن شیخین نے ”سیّد الایام“ (دنوں کا سردار) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1039]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی زناد سے استشہاد کیا ہے، لیکن شیخین نے ”سیّد الایام“ (دنوں کا سردار) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1039]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1039 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل موسى بن أبي عثمان -وهو التبان- وأبيه. ابنُ أبي الزناد: هو عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ "حدیث صحیح" ہے۔ موسیٰ بن ابی عثمان اور ان کے والد کی وجہ سے متابعت میں یہ سند "حسن" ہے۔ ابن ابی الزناد سے مراد عبدالرحمن ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2710) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (2710) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1728)، وابن المنذر في "الأوسط" (1706) عن الربيع بن سليمان، به. وسقط من إسناد ابن خزيمة أبو عثمان والد موسى، فقال ابن خزيمة بإثره: غلطنا في إخراج هذا الحديث، لأنَّ هذا مرسل؛ موسى بن أبي عثمان لم يسمع من أبي هريرة، أبوه أبو عثمان التبان روى عن أبي هريرة أخبارًا سمعها منه. قال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 15/ 618: كأنه سقط من نسخته "عن أبيه"، فقد رواه الحاكم من حديث ابن وهب فقال فيه: عن أبيه.
🔍 علّت / فنی نکتہ: ابن خزیمہ (1728) نے اسے الربيع بن سلیمان کی سند سے روایت کیا مگر اس میں ابوعثمان کا نام گرنے کی وجہ سے اسے "مرسل" سمجھ کر اپنی غلطی قرار دیا، تاہم ابن حجر نے واضح کیا کہ حاکم کی روایت (عن ابیہ) سے ثابت ہے کہ یہ متصل ہے۔
وأخرجه أبو طاهر المخلِّص في "المخلصيات" (645) من طريق يحيى بن سليمان بن نضلة، عن عبد الرحمن بن أبي الزناد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوطاہر المخلص نے یحییٰ بن سلیمان عن ابن ابی الزناد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 13/ (9207) و 15/ (9409) و 16/ (10645)، ومسلم (854)، والترمذي (488)، والنسائي (1675) من طريق عبد الرحمن الأعرج، وأحمد (10970)، وابن خزيمة (1729) من طريق عبد الله بن فروخ، كلاهما عن أبي هريرة. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم میں احمد، مسلم (854)، ترمذی (488) اور نسائی (1675) نے الاعرج اور ابن فروخ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وسيأتي عند المصنف بنحوه مطولًا من طريق أبي سلمة عن أبي هريرة برقم (1043) و (1044) ومختصرًا برقم (4043).
🔁 تکرار: یہ آگے تفصیلاً نمبر (1043، 1044) پر اور مختصراً نمبر (4043) پر آئے گی۔
وفي الباب عن أوس بن أوس الثقفي، سيأتي برقم (1042).
🧩 متابعات و شواہد: اوس بن اوس الثقفی کی حدیث آگے نمبر (1042) پر ملاحظہ فرمائیں۔
وعن أبي لبابة البدري عند أحمد 24/ (15548)، وابن ماجه (1084)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابولبابہ البدری کی روایت احمد اور ابن ماجہ (1084) میں ہے، مگر سند ضعیف ہے۔
وعن سعد بن عبادة عند أحمد 37/ (22457)، وإسناده ضعيف أيضًا.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت سعد بن عبادہ کی روایت بھی احمد (22457/37) میں ضعیف سند سے موجود ہے۔