المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. تبعث الأيام يوم القيامة على هيئاتها والجمعة زهراء
قیامت کے دن دنوں کو ان کی ہیئتوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا، اور جمعہ روشن و تابناک ہوگا۔
حدیث نمبر: 1040
أخبرنا أبو النَّضر محمدُ بن محمد بن يوسف الفَقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أبو تَوْبةَ الرَّبيع بن نافع الحَلَبي، حدثنا الهيثم بن حُمَيد، حدثني أبو مُعَيد حفص بن غَيلان، عن طاووس، عن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله يَبعثُ الأيام يومَ القيامة على هَيْئتها، ويبعث الجمعةَ زهراءَ مُنيرةً، أهلُها يَحُفُّون بها كالعَروس تُهدَى إلى كَريمِها، تُضيءُ لهم يمشون في ضَوئِها، ألوانهم كالثَّلج بياضًا، ورِيحُهم يَسطَع كالمِسك، يخوضون في جبال الكافور، يَنظُر إليهم الثَّقَلان لا يَطْرِفون تعجُّبًا حتى يدخلوا الجنة، لا يخالطُهم أحدٌ إلّا المؤذِّنون المحتسِبون" (1) .
هذا حديث شاذٌّ (2) صحيح الإسناد. فإنَّ أبا مُعَيد من ثقات الشاميين الذين يُجمَعُ حديثهم، والهيثم بن حُمَيد من أعيان أهل الشام غير أنَّ الشيخين لم يخرجا عنهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1027 - خبر شاذ صحيح السند
هذا حديث شاذٌّ (2) صحيح الإسناد. فإنَّ أبا مُعَيد من ثقات الشاميين الذين يُجمَعُ حديثهم، والهيثم بن حُمَيد من أعيان أهل الشام غير أنَّ الشيخين لم يخرجا عنهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1027 - خبر شاذ صحيح السند
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام دنوں کو ان کی اصل حالت میں اٹھائے گا اور جمعہ کے دن کو نہایت چمکدار اور روشن اٹھائے گا، جمعہ والے اسے اس طرح گھیرے ہوئے ہوں گے جیسے دلہن کو اس کے معزز شوہر کی طرف رخصت کیا جاتا ہے، وہ دن ان کے لیے روشنی کرے گا اور وہ اس کے نور میں چلیں گے، ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے اور ان کی خوشبو مشک کی طرح مہک رہی ہوگی، وہ کافور کے پہاڑوں میں گھوم رہے ہوں گے، جن و انس انہیں حیرت سے پلک جھپکائے بغیر دیکھ رہے ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے، ان کے ساتھ صرف خالص نیت سے اذان دینے والے (مؤذن) ہی شامل ہوں گے۔“
یہ ایک شاذ لیکن صحیح الاسناد حدیث ہے، کیونکہ ابو معید شامیوں کے ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، اور ہیثم بن حمید بھی اکابرینِ شام میں سے ہیں، مگر شیخین نے ان دونوں سے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1040]
یہ ایک شاذ لیکن صحیح الاسناد حدیث ہے، کیونکہ ابو معید شامیوں کے ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث جمع کی جاتی ہے، اور ہیثم بن حمید بھی اکابرینِ شام میں سے ہیں، مگر شیخین نے ان دونوں سے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1040]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1040 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ أبا معيد حفص بن غيلان لم يدرك طاووسًا، كما قال أبو حاتم في "العلل" لابنه 2/ 565 (594)، ثم إنَّ بعضهم قد تكلم في أبي معيد هذا، وقال ابن خزيمة عند إخراجه هذا الحديث: إن صحَّ الخبر، فإنَّ في النفس من هذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ ابومعید کا طاؤس سے سماع ثابت نہیں (العلل لابن ابی حاتم 565/2)۔ ابن خزیمہ نے بھی اس سند پر شک کا اظہار کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2779) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (2779) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1730)، والطبراني في "مسند الشاميين" (1557)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (2779)، وفي "فضائل الأوقات" (254)، وتمام في "فوائده" (1260) من طرق عن أبي توبة الربيع بن نافع، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (1730)، طبرانی اور بیہقی نے ابوتوبہ الربیع بن نافع کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1730)، والطبراني في "مسند الشاميين" (1557)، وابن عدي في ترجمة عبد الله بن يوسف التنيسي من "الكامل" 4/ 205، وتمام في "فوائده" (1260)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4445) من طريق عبد الله بن يوسف، عن الهيثم بن حميد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ، طبرانی اور ابن عدی نے الہیثم بن حمید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 4/ 109 - 110 من طريق طلحة بن زيد هذا عن عبيدة بن حسان، عن طاووس، به. ونقل عن البخاري أنه قال في طلحة: منكر الحديث، وعن النسائي أنه قال: متروك الحديث.
👤 راوی پر جرح: اسے ابن عدی نے طلحہ بن زید عن عبیدہ بن حسان کی سند سے روایت کیا، مگر امام بخاری نے طلحہ کو منکر الحدیث اور نسائی نے متروک کہا ہے۔
قوله: "يَطرِفون" من طَرَف بَصَرُه: إذا أطبق أحدَ جفنيه على الآخر.
📝 (توضیح): "یطرفون" کا مطلب ہے پلکیں جھپکانا یا آنکھیں بند کر کے کھولنا۔
(2) يريد بالشذوذ تفرد الراوي بالحديث كما قرر ذلك هو في "معرفة علوم الحديث".
🔍 فنی نکتہ: (2) شذوذ سے مراد یہاں راوی کا حدیث بیان کرنے میں اکیلا ہونا (تفرد) ہے۔