المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. ساعة الإجابة يوم الجمعة
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1044
أخبرَناه أبو جعفرٍ محمد بن عليٍّ الشَّيبانيّ بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاريّ، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن محمد بنِ إبراهيم بن الحارث التَّيميّ، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هُريرة قال: جئتُ الطُّورَ فلقيتُ هناك كعبَ الأحبار، فحدّثتُه عن رسول الله ﷺ، وحدَّث عن التوراة، فما اختَلَفا حتى مررتُ بيوم الجمعة، قال: قلت: قال رسول الله ﷺ:"في كلِّ يومِ جمعةٍ ساعةٌ لا يوافقُها مؤمنٌ وهو يصلِّي، يسألُ الله شيئًا إلا أعطاه إياه"، فقال كعب: تلك في كلِّ سنة، فقلت: ما كذلك قال رسول الله ﷺ، فرجع فتَلَا، ثم قال: صَدَقَ رسولُ الله ﷺ، في كلِّ جمعة. قال أبو هريرة: ثم لقيتُ عبدَ الله بن سَلَامٍ فحدثتُه بمجلسي مع كعب. فذكر الحديث بنحوٍ من حديث مالك (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کوہِ طور گیا تو وہاں کعب الاحبار سے ملا، میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنائیں اور انہوں نے مجھے تورات کی باتیں سنائیں، ان میں کوئی اختلاف نہیں تھا یہاں تک کہ جب میں نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ کوئی مومن بندہ اسے نماز کی حالت میں پائے اور اللہ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ اسے وہ ضرور عطا کرتا ہے“، کعب نے کہا: وہ سال بھر میں صرف ایک بار ہوتی ہے، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا، پھر انہوں نے (تورات) کی تلاوت کی تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، وہ ہر جمعہ میں ہوتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور انہیں کعب کے ساتھ اپنی مجلس کا حال بتایا، پھر راوی نے امام مالک کی حدیث کی طرح پوری روایت ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1044]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1044 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن إسحاق وإن رواه بالعنعنة، قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) حدیث صحیح ہے اور یہ سند "حسن" ہے۔ محمد بن اسحاق اگرچہ "عن" سے روایت کر رہے ہیں مگر ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23786) عن يزيد بن هارون، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23786/39) نے یزید بن ہارون عن محمد بن اسحاق کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد 12/ (7151) و 16/ (10302)، والبخاري (935) و (5294)، ومسلم (852)، وابن ماجه (1137)، والنسائي (1760 - 1765) و (10230 - 10233) و (10235) من طرق عن أبي هريرة. ¤ ¤ وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً و مختصراً احمد، بخاری (935)، مسلم (852)، ابن ماجہ اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وقول أبي هريرة هنا: جئت الطور، أي: بلاد الشام، قال ياقوت في "معجم البلدان" 4/ 47: ويقال لجميع بلاد الشام: الطور.
📝 (توضیح): حضرت ابوہریرہ کا یہ کہنا کہ "میں طور پر گیا"؛ یاقوت حموی کے مطابق پورے ملک شام کو بھی "طور" کہا جاتا ہے۔