المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. ساعة الإجابة يوم الجمعة
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1045
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني عَمرو بن الحارث، أنَّ الجُلَاح أبا كثير، أخبره، أنَّ أبا سلمة بن عبد الرحمن حدَّثه عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"يومُ الجمعة ثِنتا عَشْرة -يريد ساعةً- ولا يوجدُ عبدٌ مسلمٌ يسألُ اللهَ شيئًا إلّا آتاه الله، فالتَمِسُوها آخرَ الساعةِ بعد العصر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بالجُلاح أبي كثير، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1032 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بالجُلاح أبي كثير، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1032 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن بارہ گھنٹے ہوتے ہیں، ان میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں جو اس وقت اللہ سے کسی چیز کا سوال کرے اور اللہ اسے وہ عطا نہ فرمائے، پس تم اسے عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں تلاش کرو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے جلاح ابوکثیر سے احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1045]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے جلاح ابوکثیر سے احتجاج کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1045]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1045 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل الجلاح، وقد تفرد به. وضعّف هذا الإسناد البيهقي في "الشعب".
⚖️ درجۂ حدیث: (1) جلاح نامی راوی کی وجہ سے سند "حسن" ہے اور وہ اس میں منفرد ہیں۔ بیہقی نے "شعب الایمان" میں اس سند کو ضعیف کہا ہے۔
وأخرجه أبو داود (1048) عن أحمد بن صالح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1048) نے احمد بن صالح کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (1709) من طريقين آخرين عن عبد الله بن وهب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1709) نے عبداللہ بن وہب کے دو دیگر طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن عبد الله بن سلام وأبي هريرة، انظر ما قبله.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت عبداللہ بن سلام اور ابوہریرہ کی احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔