🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
52. تبع وذو القرنين أكانا نبيين أم لا ؟
تُبّع اور ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا بَهْز بن أسد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن رسول الله ﷺ قال:"لما خَلَقَ اللهُ آدمَ صَوَّره وتَرَكَه في الجنة ما شاء اللهُ أن يتركَه، فجعل إبليسُ يُطِيفُ به، فلما رآه أجوَفَ عَرَفَ أنه خَلْقٌ لا يَتمالَكُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وقد بلغني أنه أخرجه في آخر الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 105 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے (جنت میں) آدم کی صورت گری کی تو انہیں اتنی مدت چھوڑے رکھا جتنی مدت اللہ نے چاہا، چنانچہ ابلیس ان کے گرد چکر کاٹنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ وہ اندر سے کھوکھلے (اجوف) ہیں تو وہ سمجھ گیا کہ یہ ایسی مخلوق ہے جو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے گی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ انہوں نے اسے کتاب کے آخر میں روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 105]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 105 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه مسلم (2611) عن أبي بكر بن نافع، عن بهز بن أسد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے (2611) میں ابوبکر بن نافع کے واسطے سے بہز بن اسد کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 20/ (12539) و 21/ (13391) و (13516) و (13661)، ومسلم (2611)، ¤ ¤ وابن حبان (6163) من طرق عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (متعدد مقامات)، مسلم (2611) اور ابن حبان (6163) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (4036) من طريق عفان عن حماد بن سلمة.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت آگے نمبر (4036) پر عفان بن مسلم عن حماد بن سلمہ کے طریق سے آئے گی۔
قوله: "يُطِيف به" أي: يستدير حوله.
📝 نوٹ / توضیح: قول "یُطیف بہ" کا مطلب ہے اس کے گرد چکر لگانا یا گھومنا۔
وقوله: "لا يتمالك" أي: لا يملك نفسه ويحبسها عن الشهوات، وقيل: لا يملك دفعَ الوسواس عنه، وقيل: لا يملك نفسه عند الغضب، والمراد جنسُ بني آدم. قاله النووي في "شرح مسلم".
📝 نوٹ / توضیح: قول "لا یتمالک" کا مطلب ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہیں رکھتا اور اسے شہوات سے نہیں روک پاتا۔ 📌 اہم نکتہ: امام نووی "شرح مسلم" میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وسوسوں کو دور نہ کر پانا یا غصے کے وقت قابو نہ رکھ پانا بھی ہو سکتا ہے، اور یہاں مراد جنسِ بنی آدم ہے۔