🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. أول جمعة بعد جمعة المدينة بجواثا ؟ عبد القيس
مدینہ کی جمعہ کے بعد پہلی جمعہ جواثا میں عبد القیس نے قائم کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1051
أخبرنا أبو عَمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطيّ، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، قال: حدثني محمد بن أبي أُمامة بن سهل، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن كعب، قال: كنتُ قائدَ أبي حين ذهب بصرُه، إذا خرجتُ به إلى الجمعة فسمع الأذان صلَّى على أبي أَمامة أسعد بن زُرارة واستغفر له، فمكثتُ كثيرًا لا يسمع أذان الجمعة إلّا فعل ذلك، فقلت: يا أبَتِ، أرأيت استغفارك لأبي أمامة كلما سمعتَ الأذان للجمعة ما هو؟ قال: أيْ بنيَّ، كان أولَ من جمَّع بنا بالمدينة في هَزْمٍ من حَرَّةِ بني بَيَاضة يقال لها: نقيعُ الخَضِمات، قال: قلت: كم كنتم يومئذ؟ قال: أربعين رجلًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاهد الحديث الذي تفرَّد بإخراجه البخاريُّ (1) من حديث إبراهيم بن طَهْمان عن أبي جَمرة عن ابن عباس: أولُ جمعة في الإسلام بعد جمعةٍ بالمدينة جمعةٌ بجُواثَى (2) عبد القَيس.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1039 - على شرط مسلم_x000D_ وَهُوَ شَاهِدُ الْحَدِيثِ الَّذِي تَفَرَّدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَوَّلُ جُمُعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ بَعْدَ جُمُعَةٍ بِالْمَدِينَةِ جُمُعَةٌ بِجُوَاثَا عَبْدِ الْقَيْسِ»
سیدنا عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد (کعب بن مالک) کا قائد تھا جب ان کی بینائی چلی گئی تھی، جب میں انہیں جمعہ کی نماز کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا و استغفار کرتے، میں کافی عرصہ ان کے ساتھ رہا تو وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ایسا ہی کرتے، میں نے پوچھا: ابا جان! میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ کے لیے استغفار کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مدینہ میں ہزم کے مقام پر جو حَرّہ بنی بیاضہ میں ہے اور جسے نقیع الخضمات کہا جاتا ہے، ہمیں جمعہ پڑھایا، میں نے پوچھا: اس دن آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے کہا: چالیس آدمی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اس حدیث کا شاہد ہے جسے اکیلے امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ اسلام میں مدینہ کے جمعہ کے بعد پہلا جمعہ عبدالقیس کی بستی جواثی میں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1051]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1051 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهب بن جرير عن أبيه: هو جرير بن حازم.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) محمد بن اسحاق کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ وہب بن جریر اپنے والد جریر بن حازم سے روایت کر رہے ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1069)، وابن ماجه (1082)، وابن حبان (7013) من طرق عن محمد ابن إسحاق، بهذا الإسناد. ووقع عندنا في أصل "الإحسان" و"التقاسيم": عبد الله بن كعب، بدل ¤ ¤ عبد الرحمن، وهو خطأ وجاء على الصواب في "إتحاف المهرة" 13/ 35.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1069)، ابن ماجہ (1082) اور ابن حبان (7013) نے ابن اسحاق کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ابن حبان کے مطبوعہ میں "عبداللہ بن کعب" نام غلط چھپ گیا تھا، درست "عبدالرحمن" ہے جیسا کہ ابن حجر نے بتایا۔
وسيأتي الحديث في "المستدرك" من طريق يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق برقم (4919).
🔁 تکرار: یہ حاکم کے ہاں یونس بن بکیر کے طریق سے آگے نمبر (4919) پر آئے گی۔
قوله: هزم، قال ابن الأثير: هزم الأرض: هو ما تهزَّم بها، أي: تشقق، ويجوز أن يكون جمع هَزْمَة: وهو المتطامن من الأرض، وهَزْم بني بياضة: هو موضع بالمدينة.
📝 (توضیح): "ہزم" سے مراد زمین کی شگاف یا نشیبی جگہ ہے۔ "ہزم بنی بیاضہ" مدینہ میں ایک مقام کا نام ہے۔
والنقيع: هو الماء الناقع، وهو المجتمع، ونقيع الخضمات: موضع قرب المدينة كان يستنقع فيه الماء، أي: يجتمع.
📝 (توضیح): "النقیع" ٹھہرے ہوئے پانی کو کہتے ہیں۔ "نقیع الخضمات" مدینہ کے قریب وہ جگہ تھی جہاں سیلاب کا پانی جمع ہوتا تھا۔
والخضمات ضُبطت بفتح الخاء المعجمة وتثليث الضاد، كما في "شرح القاموس".
🔍 فنی نکتہ: "الخضمات" کو خ کے زبر اور ضاد کی تینوں حرکات کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔
(1) في "صحيحه" (892) و (4371).
📖 حوالہ / مصدر: (1) یہ بخاری کی "صحیح" میں نمبر (892، 4371) پر ہے۔
(2) جُواثَي: موضع يبعد عن مدينة الهفوف من الأحساء -شرقي الملكة العربية السعودية- مسافة 17 كم.
📝 (توضیح): "جُواثی" الاحساء (سعودی عرب) میں ہفوف شہر سے 17 کلومیٹر دور ایک تاریخی مقام ہے۔