المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. مَنْ غَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ صِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامِهَا
جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی جائے اور خطبہ غور سے سنے، اس کے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی۔
حدیث نمبر: 1053
فحدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا يزيد بن الهيثم القَطِيعي، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجَعيُّ عن سفيان، عن عبد الله بن عيسى، عن يحيى بن الحارث، عن أبي الأشعث الصنعانيّ، عن أوسِ بن أوس الثَّقفي، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن غَسَل واغتَسَل ثم غدا، وابتَكَر، فجلس من الإمام قريبًا فاستَمَع وأنصَتَ، كان له بكلِّ خُطْوةٍ أجرُ سنةٍ، صيامِها وقيامِها" (1) . وأما حديث حسان بن عطية:
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (اپنا سر) دھویا اور غسل کیا، پھر اول وقت میں گیا، اور امام کے قریب بیٹھ کر خاموشی سے توجہ کے ساتھ سنا، تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے عمل کا اجر ہے، اس (سال) کے روزوں کا بھی اور اس کے قیام کا بھی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن أبي الليث -وهو إبراهيم بن نصر الترمذي- وهو أحسن حالًا في روايته عن الأشجعي من غيرها، وقد توبع هنا في حديث أوس بن أوس- الأشجعي: هو عبيد الله بن عبد الرحمن، وسفيان: هو الثوري، وأبو الأشعث الصنعاني: هو شراحيل بن آدَه-» [ترقيم الرساله 1053] [ترقيم الشركة 1045]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1053 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن أبي الليث -وهو إبراهيم بن نصر الترمذي- وهو أحسن حالًا في روايته عن الأشجعي من غيرها، وقد توبع هنا في حديث أوس بن أوس. الأشجعي: هو عبيد الله بن عبد الرحمن، وسفيان: هو الثوري، وأبو الأشعث الصنعاني: هو شراحيل بن آدَه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے اور ابراہیم بن ابی لیث (ابراہیم بن نصر الترمذی) کی وجہ سے متابعات میں سند "حسن" ہے۔ ابوالاشعث الصنعانی سے مراد شراحیل بن ادہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16178)، والترمذي (496)، والنسائي (1720) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (16178/26)، ترمذی (496) اور نسائی (1720) نے سفیان ثوری کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وأخرجه الترمذي (496) من طريق أبي جناب يحيى بن أبي حية، عن عبد الله بن عيسي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے ابوجناب (یحییٰ بن ابی حیہ) عن عبداللہ بن عیسیٰ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
وقال بإثره: ويروى عن ابن المبارك: "غسل رأسه واغتسل".
🔍 فنی نکتہ: ترمذی نے اس کے بعد ابن المبارک کا یہ قول نقل کیا کہ اس کا مطلب سر دھونا اور غسل کرنا ہے۔
وأخرجه النسائي (1697) و (1719) من طريقين عن يحيى بن الحارث الذِّماري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے یحییٰ بن الحارث الذماری کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله وما بعده.
🔍 فنی نکتہ: اس سے پہلے اور بعد کی روایات بھی دیکھیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1053 in Urdu