🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. من غسل يوم الجمعة ودنا من الإمام وأنصت له بكل خطوة أجر صيام سنة وقيامها
جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی جائے اور خطبہ غور سے سنے، اس کے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1057
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عليُّ بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن منهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن محمد ابن إبراهيم، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة وأبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن غَسَل يوم الجمعة واستاك ولَبِس أحسنَ ثيابه وتطيَّب بطيبٍ إِن وَجَدَه، ثم جاء ولم يتخطَّ الناسَ، فصلَّى ما شاء الله أن يصلي، فإذا خرج الإمامُ سكت، فذلك كفارةٌ إلى الجمعة الأخرى" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيضًا إسماعيل ابن عُليَّة عن محمد بن إسحاق، مثل رواية حماد بن سلمة، وقيَّده بأبي أُمامة بن سهل مقرونًا بأبي سلمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1045 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اچھے کپڑے پہنے اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائے پھر مسجد میں آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے پھر اللہ کی توفیق سے نماز پڑھے پھر جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو وہ خاموش ہو جائے تو اس کا یہ عمل اگلے جمعہ تک کے گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس حدیث کو اسماعیل بن علیہ نے بھی حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے اور اس میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابوامامہ بن سہل کا ذکر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1057]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1057 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن محمد بن إسحاق صرَّح بالتحديث عند أحمد -كما سيأتي تخريجه في الرواية التي بعد هذه- فانتفت شبهة تدليسه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) سند "حسن" ہے؛ محمد بن اسحاق نے مسند احمد کی روایت میں تحدیث (سماع) کی صراحت کر دی ہے، لہذا تدلیس کا شبہ ختم ہو گیا۔
وأخرجه أبو داود (343) عن موسى بن إسماعيل، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (343) نے موسیٰ بن اسماعیل عن حماد بن سلمہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 15/ (9484)، ومسلم (857)، وأبو داود (1050)، وابن ماجه (1090)، والترمذي (498)، وابن حبان (1231) و (2780) من طريق أبي صالح، عن أبي هريرة. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم میں احمد، مسلم (857)، ابوداؤد (1050)، ابن ماجہ، ترمذی اور ابن حبان نے ابوصالح عن ابی ہریرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه بنحوه أيضًا أحمد 17/ (11347) من طريق عطية العوفي، عن أبي سعيد الخدري.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11347/17) نے عطیہ العوفی عن ابی سعید خدری کی سند سے اسی مفہوم میں روایت کیا ہے۔
وفيه زيادة في آخره.
🔍 فنی نکتہ: اس کے آخر میں کچھ اضافہ بھی ہے۔
وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت بھی دیکھیں۔
وفي الباب عن أبي ذر سيأتي في المستدرك برقم (1086)، والمحفوظ أنه من حديث سلمان الفارسي كما سيأتي بيانه.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابوذر کی حدیث مستدرک میں (1086) پر آئے گی، مگر محفوظ یہ ہے کہ وہ حضرت سلمان فارسی کی حدیث ہے۔
وعن أبي أيوب الأنصاري عند أحمد 38/ (23571).
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ایوب انصاری کی روایت مسند احمد (23571/38) میں موجود ہے۔