🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. الأمر بحضور الذكر والدنو من الإمام
ذکرِ الٰہی میں حاضر ہونے اور امام کے قریب بیٹھنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1081
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يَزيد المقرئ، حدثنا سعيد بن أبي أيوب، حدثني أبو مَرْحُوم، عن سَهْل بن معاذ بن أنس الجُهَني، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن الحُبْوةِ يومَ الجُمعة، والإمامُ يخطُب (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1069 - صحيح
سیدنا سہل بن معاذ بن انس جہنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن جب امام خطبہ دے رہا ہو تو «حبوه» دو زانو بیٹھ کر گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ لگا کر کپڑے یا ہاتھوں سے لپیٹ لینے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1081]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1081 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده فيه ضعف، انفرد به أبو مرحوم - واسمه عبد الرحيم بن ميمون - عن سهل بن معاذ بن أنس، وضعفه ابن المنذر في "الأوسط" 4/ 90، وعبد الحق الإشبيلي في "الأحكام الوسطى" 3/ 63، ووافقه ابن القطان في "بيان الوهم والإيهام" 4/ 173، فأبو مرحوم إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) سند میں تھوڑا ضعف ہے کیونکہ ابومرحوم (عبدالرحیم بن میمون) اس میں تنہا ہیں؛ ابن المنذر اور ابن القطان نے ان کی تضعیف کی ہے، لہٰذا یہ صرف متابعات میں معتبر ہیں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15630)، وأبو داود (1110)، والترمذي (514) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (15630/24)، ابوداؤد (1110) اور ترمذی (514) نے عبداللہ بن یزید المقرئ کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
قوله: عن الحبوة، بكسر الحاء وضمها اسم من الاحتباء، والجمع: حُبًا وحِبًا، قال ابن الأثير في "النهاية": وإنما نُهي عنه لأنَّ الاحتباء يجلب النوم فلا يسمع الخطبة، ويعرِّض طهارته للانتقاض.
📝 (توضیح): "الحبوة" (ح کے زیر یا پیش کے ساتھ)؛ گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ لگا کر کپڑے یا ہاتھوں سے باندھ کر بیٹھنا۔ ابن الاثیر کے مطابق اس سے منع اس لیے کیا گیا کیونکہ اس سے نیند آتی ہے جس سے خطبہ نہیں سنا جاتا اور وضو ٹوٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔