🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. ست ركعات بعد الجمعة
جمعہ کے بعد چھ رکعت نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر الدَّارَبردي بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن يزيدَ بن أبي حبيب، عن عطاء، عن ابن عمر قال: كان إذا كان بمكة فصلى الجمعةَ تقدم فصلى ركعتين، ثم تقدم فصلى أربعًا، فإذا كان بالمدينة صلى الجمعة، ثم رجع إلى بيته فصلى ركعتين، ولم يُصلِّ في المسجد، فقيل له، فقال: كان رسولُ الله ﷺ يفعلُ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث ابن عمر في الركعتين في بيته (2) ، ولمسلمٍ وحدَه: كان يُصلي بعد الجمعة أربعًا (3) . وقد تابع ابنُ جريج يزيدَ بنَ أبي حبيب على روايته عن عطاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1072 - على شرطهما
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب وہ مکہ میں ہوتے ہیں (اور جمعہ پڑھنے کے لیے آتے ہیں) اور جمعہ پڑھ تے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں پھر آگے بڑھتے ہیں اور چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب آپ مدینہ میں ہوتے ہیں تو صرف جمعہ پڑھ کر گھر لوٹ جاتے ہیں اور گھر آ کر دو رکعتیں پڑھتے ہیں اور مسجد میں (جمعہ کے بعد) نماز نہیں پڑھتے، آپ سے کہا گیا (کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواباً) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے ان لفظ نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی گھر میں دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق حدیث نقل کی ہے جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریج کی متابعت: اس حدیث کو عطاء سے روایت کرنے میں ابن جریج نے یزید بن ابوحبیب کی متابعت کی ہے (ابن جریج کی روایت درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1084]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1084 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوموجہ سے مراد محمد الفزاری اور عطاء سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1130) عن محمد بن عبد العزيز بن أبي رِزمَة المروزي، عن الفضل بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1130) نے محمد بن عبدالعزیز عن الفضل بن موسیٰ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت بھی دیکھیں۔
(2) أخرجه البخاري (937) و (1172)، ومسلم (882) (70) و (71) من طريق نافع عن ابن عمر.
📖 حوالہ / مصدر: (2) اسے بخاری (937) اور مسلم (882) نے نافع عن ابن عمر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج البخاري (1165) من طريق سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال: صليت مع رسول الله ﷺ ركعتين قبل الظهر، وركعتين بعد الظهر، وركعتين بعد الجمعة، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء. وهو عند مسلم (882) (72) من هذا الطريق في ركعتي الجمعة فقط.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (1165) نے سالم عن ابن عمر سے ظہر، مغرب، عشاء اور جمعہ کے بعد دو دو رکعتوں کے ذکر کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) لم يخرج ذلك مسلم عن ابن عمر، وإنما روى أبو داود والترمذي عنه أنه كان يصلي بعدها ¤ ¤ ركعتين ثم أربعًا، يعني ست ركعات، كما في الحديث التالي.
🔍 علّت / فنی نکتہ: (3) امام مسلم نے حضرت ابن عمر سے یہ (چار رکعت والی بات) روایت نہیں کی، بلکہ ابوداؤد اور ترمذی نے ان سے "چھ رکعت" (پہلے دو پھر چار) روایت کی ہیں۔