المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. سِتُّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے بعد چھ رکعت نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1084
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر الدَّارَبردي بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن يزيدَ بن أبي حبيب، عن عطاء، عن ابن عمر قال: كان إذا كان بمكة فصلى الجمعةَ تقدم فصلى ركعتين، ثم تقدم فصلى أربعًا، فإذا كان بالمدينة صلى الجمعة، ثم رجع إلى بيته فصلى ركعتين، ولم يُصلِّ في المسجد، فقيل له، فقال: كان رسولُ الله ﷺ يفعلُ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث ابن عمر في الركعتين في بيته (2) ، ولمسلمٍ وحدَه: كان يُصلي بعد الجمعة أربعًا (3) . وقد تابع ابنُ جريج يزيدَ بنَ أبي حبيب على روايته عن عطاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1072 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث ابن عمر في الركعتين في بيته (2) ، ولمسلمٍ وحدَه: كان يُصلي بعد الجمعة أربعًا (3) . وقد تابع ابنُ جريج يزيدَ بنَ أبي حبيب على روايته عن عطاء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1072 - على شرطهما
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب وہ مکہ میں ہوتے ہیں (اور جمعہ پڑھنے کے لیے آتے ہیں) اور جمعہ پڑھ تے ہیں تو دو رکعتیں پڑھتے ہیں پھر آگے بڑھتے ہیں اور چار رکعتیں پڑھتے ہیں اور جب آپ مدینہ میں ہوتے ہیں تو صرف جمعہ پڑھ کر گھر لوٹ جاتے ہیں اور گھر آ کر دو رکعتیں پڑھتے ہیں اور مسجد میں (جمعہ کے بعد) نماز نہیں پڑھتے، آپ سے کہا گیا (کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواباً) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے ان لفظ نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی گھر میں دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق حدیث نقل کی ہے جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریج کی متابعت: اس حدیث کو عطاء سے روایت کرنے میں ابن جریج نے یزید بن ابوحبیب کی متابعت کی ہے (ابن جریج کی روایت درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1084]
حدیث نمبر: 1085
هكذا أخبرناه أبو بكر بنُ إسحاق الفقيه، أخبرنا إبراهيم بن إسحاق الأنماطيّ، حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جُريج، قال: أخبرني عطاء أنه رأى ابنَ عمر يُصلي يومَ الجمعة، فيتقدَّمُ عن مُصلَّاه الذي صلى فيه الجمعةَ قليلًا غيرَ كثير، فيركعُ ركعتين، قال: ثم يمشي أنفسَ من ذلك، فيركعُ أربع ركعات، قلتُ لعطاء: كم رأيتَ ابنَ عمر يصنعُ ذلك؟ قال: مِرارًا (1) .
سیدنا عطاء فرماتے ہیں: کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جمعہ کے دن (نماز) جمعہ پڑھتے دیکھا کہ وہ (نماز جمعہ پڑھنے کے بعد) اس جگہ سے جہاں آپ نے جمعہ پڑھا تھا تھوڑا سا آگے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر تھوڑا سا آگے ہوئے اور چار رکعتیں پڑھیں (ابن جریج کہتے ہیں) میں نے عطاء سے پوچھا: تم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کتنی مرتبہ ایسے کرتے دیکھا۔ انہوں نے جواب دیا: کئی مرتبہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1085]
حدیث نمبر: 1086
أخبرنا أبو عبد الله محمد بنُ يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عبد الله بن وَدِيعة (2) ، عن أبي ذَرٍّ، عن النبي ﷺ قال:"مَن اغتسل يومَ الجمعة فأحسن الغُسلَ، وتطهَّر فأحسن الطُّهور، ولَبِس من خير ثيابه، ومسَّ ما كَتَبَ الله له من طِيبِ أو دُهنِ أهله، ولم يفرِّقْ بين اثنين، إلّا غُفِرَ له إلى الجمعة الأخرى" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1074 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1074 - على شرط مسلم
سیدنا ابوذر فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن بہت اچھا غسل کرے اور خوب طہارت حاصل کرے، اچھے کپڑے پہنے اور خوشبو یا گھر کا تیل جو بھی میسر ہو لگائے اور دو میں فرق نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1086]
حدیث نمبر: 1087
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَمٍ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، عن محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا نَعَس أحدُكم يومَ الجمعة في مجلِسه، فليتحوَّلْ من مجلسِه ذلك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1075 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1075 - على شرط مسلم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو جمعہ کے دن ایک جگہ پر بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو اس کو چاہیے کہ جگہ بدل لے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1087]
حدیث نمبر: 1088
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبةَ القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطيالسي، حدثنا ابن أبي ذئب، عن مسلم بن جُندُب، عن الزُّبير بن العوَّام قال: كنا نصلي الجمعةَ مع رسول الله ﷺ فكنَّا نبتدِرُ الفيءَ، فما يكون إلّا قَدْر قدم أو قدمين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج البخاري عن أبي خَلْدة عن أنس بغير هذا اللفظ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1076 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما خرَّج البخاري عن أبي خَلْدة عن أنس بغير هذا اللفظ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1076 - صحيح
سیدنا زبیر بن عوام کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھا کرتے تھے (جب ہم جمعہ سے فارغ ہو جاتے تو) سائے کی طرف ایک دوسرے سے آگے نکلتے تو اس وقت سایہ ایک یا دو قدم تک ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ابوخلدہ کی سند کے ہمراہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے تاہم ان کے الفاظ یہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1088]