المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. من أدرك من صلاة الجمعة ركعة فقد أدرك الصلاة
جس نے جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے پوری نماز پا لی۔
حدیث نمبر: 1090
حدثناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا أسامة بن زيد الليثي، عن ابن شِهاب، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"مَن أدركَ من الجمعة ركعةً فليُصلِّ إليها أخرى" (1) . قال أسامة: وسمعتُ من أهل المجلس عن القاسم بن محمد وسالمٍ أنهما كانا يقولان ذلك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1078 - ورواه صالح بن أبي الأخضر عن الزهري صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1078 - ورواه صالح بن أبي الأخضر عن الزهري صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضٰ اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب شخص نے ایک رکعت پا لی تو وہ دوسری رکعت (خود) پڑھ لے۔ ٭٭ اسامہ کہتے ہیں: میں نے اہل مجلس سے قاسم بن محمد اور سالم کے حوالے سے سنا ہے کہ وہ بھی یہی کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1090]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1090 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه ضعف، يحيى بن أيوب - وهو الغافقي - وشيخه أسامة بن زيد الليثي فيهما مقال وعندهما مناكير، وهذا منها لمخالفتهما في لفظه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) سند میں تھوڑا ضعف ہے؛ یحییٰ بن ایوب الغافقی اور اسامہ بن زید اللیثی پر کلام ہے اور ان کے ہاں کچھ منکر روایات بھی ہیں، اور یہ روایت بھی ان کی مخالفت کی وجہ سے اسی زمرے میں آتی ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1121) من طريق عمر بن حبيب، عن ابن أبي ذئب، عن الزهري، عن أبي سلمة وسعيد بن المسيب، عن أبي هريرة. وهذا إسناد ضعيف، عمر بن حبيب متفق على ضعفه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1121) نے عمر بن حبیب عن ابن ابی ذئب کی سند سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ عمر بن حبیب کے ضعف پر اتفاق ہے۔
وانظر ما قبله.
🔍 فنی نکتہ: اس سے پہلے والی روایت ملاحظہ فرمائیں۔