🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. الصلاة فى الرحال يوم الجمعة
جمعہ کے دن گھروں میں نماز پڑھنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1098
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تمِيم الحنظليُّ ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جريج، أخبرني عمر بن عطاء بن أبي الخُوَار: أنَّ نافع بن جُبير أرسله إلى السائب بن يزيد ليسأله عن شيءٍ رآه منه معاوية، فقال: صليتُ معه في المقصورة فقمتُ لأصلِّيَ في مكاني، فقال: لا تصلِّ حتى تمضيَ أمام ذلك أو تَكَلَّمَ، فإنَّ رسول الله ﷺ أَمَرَنا بذلك (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1086 - على شرطهما
عمر بن عطاء بن ابی الخوار سے مروی ہے کہ نافع بن جبیر نے انہیں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے کسی عمل پر (کیا) کہا تھا؟ سائب بن یزید نے کہا: میں نے ان کے ساتھ مقصورہ میں نماز پڑھی، پھر میں اپنی جگہ پر (نفل) پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا، تو انہوں نے کہا: ایسا نہ کرو، جب تک کہ تم یہاں سے آگے نہ بڑھ جاؤ یا گفتگو نہ کر لو (تب تک نفل نہ پڑھو)، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی کا حکم دیا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1098]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1098 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ ابوقلابہ سے مراد الرقاشی اور ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (16866) و (16913)، ومسلم (883)، وأبو داود (1129) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد. وذكروا جميعهم في رواياتهم: أنَّ تلك الصلاة كانت صلاة الجمعة. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (16866/28)، مسلم (883) اور ابوداؤد (1129) نے ابن جریج کے طریقوں سے روایت کیا ہے اور سب نے اسے جمعہ کی نماز ہی بتایا ہے، لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک کہنا بھول (ذہول) ہے۔