المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. مجيء ملك الموت عند قبض الروح ، وذكر ما يكون بعد ذلك فى القبر للمؤمن والكافر
روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
حدیث نمبر: 110
فحدَّثَنيهِ أبو سعيد بن أبي بكر بن أبي عثمان ﵏ وأنا سألتُه، حدثنا علي بن سَلْم (2) الأصبهاني بالرَّيّ، حدثنا عمّار بن رجاء، حدثنا محمد بن بكر البُرْساني، عن شعبة، عن الأعمش، عن المنهال بن عمرو عن زاذان، عن البراء، عن النبي ﷺ؛ في حديث القبر (3) . وأما حديث زائدة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 110 - على شرطهما فقد احتجا بالمنهال_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ زَائِدَةَ""،
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 110 - على شرطهما فقد احتجا بالمنهال_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ زَائِدَةَ""،
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے احوال کے متعلق حدیث بیان فرمائی... (پھر راوی نے سابقہ حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 110]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 110 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في المطبوع إلى: مسلم. وعلي بن سلم هذا نسبه المصنف إلى جده، وهو علي بن الحسن بن سلم الأصبهاني الحافظ، انظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 14/ 411.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مطبوعہ نسخے میں لفظ "مسلم" میں تحریف ہوئی ہے۔ مصنف نے یہاں علی بن سلم کو ان کے دادا کی طرف منسوب کیا ہے، جبکہ ان کا پورا نام حافظ علی بن حسن بن سلم اصبہانی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان کے حالات "سیر اعلام النبلاء" (14/411) میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن المقرئ في "معجمه" (1255) عن عتاب بن محمد الرازي، عن علي بن سلم، بهذا الإسناد - ولم يسق لفظه كما صنع المصنف هنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المقرئ نے "معجم" (1255) میں عتاب بن محمد رازی کے واسطے سے علی بن سلم کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، مگر یہاں بھی مصنف کی طرح الفاظ ذکر نہیں کیے گئے۔