🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. لا يصلى قبل العيد ولا بعدها
عید کی نماز سے پہلے اور بعد کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1107
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا أبو عمّار، حدثنا وكيع، عن أبان بن عبد الله البَجَلي، عن أبي بكر بن حفص بن عمر بن سعد بن أبي وقاص، عن ابن عمر: أنه خَرَجَ في يوم عيد إلى المصلَّى فلم يصلِّ قبلَها ولا بعدَها، وذكر أنَّ النبيَّ ﷺ فعله (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، لكنّهما قد اتفقا على حديث سعيد بن جُبَير عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ لم يصلِّ قبلَها ولا بعدَها (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1095 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے دن عیدگاہ کی طرف نکلے تو انہوں نے نماز سے پہلے اور اس کے بعد کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی، اور انہوں نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے سعید بن جبیر عن ابن عباس کی حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز سے نہ پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1107]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1107 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا الإسناد حسن من أجل أبان بن عبد الله البجلي، فهو حسن الحديث إذا لم يأت بما ينكر. أبو عمار: هو الحسين بن حريث.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) "صحیح لغیرہ" ہے اور ابان بن عبداللہ البجلی کی وجہ سے سند "حسن" ہے۔ ابوعمار سے مراد الحسین بن حریث ہیں۔
وأخرجه الترمذي (538) عن أبي عمار الحسين بن حريث. بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (538) نے ابوعمار کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کر کے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5212) عن وكيع، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (5212/9) نے وکیع کی سند سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث ابن عباس في "الصحيحين" وسيشير إليه المصنف بعده.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت ابن عباس کی صحیحین والی حدیث اس کی شاہد ہے جس کا ذکر آگے آئے گا۔
وانظر تتمة أحاديث الباب في "مسند أحمد".
🧩 متابعات و شواہد: اس باب کی مزید احادیث مسند احمد میں دیکھیں۔
(2) أخرجه البخاري (964)، ومسلم (890) (13).
📖 حوالہ / مصدر: (2) بخاری (964) اور مسلم (890)۔