🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. تحريص قيام الليل
قیامُ اللیل (رات کی نماز) کی ترغیب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1170
أخبرني أبو تُراب أحمد بن محمد المذكِّر بالنَّوْقان، حدثنا تَمِيم بن محمد، حدثنا محمد بن أسلَم الزاهد، حدثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سليمان بن المغيرة، حدثنا ثابت، عن أنس قال: وَجَدَ رسول الله ﷺ ذاتَ ليلة شيئًا، فلما أصبح قيل: يا رسول الله، إن أثَرَ الوجَع عليك لبيِّنٌ، قال:"أَمَا إنِّي على (1) ما تَرَون، بحمد الله قد قرأتُ السَّبعَ الطِّوال" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں (ایک مرتبہ) رات کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو درد رہا، صبح کے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درد کا اثر آپ پر بالکل واضح محسوس ہو رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو (میں نے اسی حالت میں) رات کو طوال میں سات سورتوں کی تلاوت کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1170]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1170 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): إني إنما أثر علي، وفي (ص) و (ع) نحوه بإسقاط لفظ "إني"، وكل ذلك تحريف، والتصويب من "شعب الإيمان" للبيهقي (2204) حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه، ووقع في المطبوع منه: حدثنا تميم بن محمد بن أسلم الزاهد، وهو خطأ، فهو من رواية تميم بن محمد - وهو ابن طُمغاج الطوسي - عن محمد بن أسلم الطوسي الزاهد.
🔍 فنی نکتہ: (1) نسخوں میں عبارت میں تحریف ہو گئی تھی، بیہقی کی "شعب الایمان" (2204) کی روشنی میں تصحیح کر دی گئی ہے۔ یہ روایت تمیم بن محمد الطوسی عن محمد بن اسلم الطوسی الزاہد کی سند سے ہے۔
(2) إسناده ضعيف، مؤمل بن إسماعيل اتفق أكثر النقاد على أنه سيئ الحفظ كثير الخطأ، وقال البخاري: منكر الحديث. قلنا: وعلى هذا فإنه ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد تفرد في هذا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ضعیف ہے۔ مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں اکثر ناقدین کا اتفاق ہے کہ وہ خراب حافظے والے اور کثیر الخطاء تھے؛ امام بخاری نے انہیں "منکر الحدیث" کہا ہے۔ وہ اس حدیث میں منفرد ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (319) من طريق الحسن بن الصباح البزار، عن مؤمل بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (319) نے حسن بن الصباح البزار کے طریق سے مؤمل بن اسماعیل کی سند سے روایت کیا ہے۔