المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. تحريص قيام الليل
قیامُ اللیل (رات کی نماز) کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1169
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، عن رَبِيعة بن يزيد (1) ، عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن أبي أمامة الباهلي، عن رسول الله ﷺ قال:"عليكم بقِيام الليل، فإنه دَأْبُ الصالحين قبلَكم، وهو قُرْبةٌ لكم إلى ربِّكم، ومَكْفَرةٌ للسيئات، ومَنْهاةٌ عن الإثم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر رات کا قیام لازم ہے کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا معمول ہے اور یہ تمہارے لیے رب کے قریب ہونے کا ذریعہ ہے، گناہوں کو مٹانے والا ہے اور برائیوں سے بچانے والا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1169]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1169 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية وكذا في "تلخيص الذهبي": ثور بن يزيد، وهو خطأ يقينًا، فقد روى هذا الحديث البيهقي في "سننه" 2/ 502 عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه، وجاء عنده على الصواب: ربيعة، وكذلك هو عند الترمذي وغيره من المخرِّجين. ثم إن ثور بن يزيد لم يدرك أبا إدريس، وُلد بعد وفاته.
🔍 فنی نکتہ: (1) نسخوں اور ذہبی کی تلخیص میں "ثور بن یزید" لکھا تھا جو غلط ہے، بیہقی اور ترمذی کے مطابق درست نام "ربیعہ (بن یزید)" ہے کیونکہ ثور کا ابوادریس سے سماع ممکن نہیں۔
(2) إسناده ضعيف، عبد الله بن صالح - وهو أبو صالح المصري كاتب الليث - سيئ الحفظ، وقال أبو حاتم كما في "العلل" لابنه (346): هو حديث منكر، لم يروه غير معاوية، وأظنه من حديث محمد بن سعيد الشامي الأزدي، فإنه يروي هذا الحديث هو بإسناد آخر. قلنا: ومحمد بن سعيد الشامي هو القرشي المصلوب، وهو كذاب يضع الحديث، وسيأتي تخريج الحديث من طريقه بعد قليل. أبو إدريس الخولاني: هو عائذ الله بن عبد الله بن عمرو.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ سند ضعیف ہے؛ عبداللہ بن صالح کا حافظہ خراب تھا اور ابوحاتم نے اسے "منکر" قرار دیا ہے، ان کے نزدیک یہ محمد بن سعید المصلوب کی من گھڑت روایت ہو سکتی ہے۔
وأخرجه الترمذي (3549 م) عن محمد بن إسماعيل السلمي، بهذا الإسناد. قال الترمذي: وهذا أصح من حديث أبي إدريس عن بلال. ¤ ¤ قلنا: أما حديث أبي إدريس عن بلال، فقد أخرجه الترمذي بإثر الحديث (3549) من طريق بكر بن خنيس، عن محمد القرشي - وهو محمد بن سعيد المصلوب - عن ربيعة بن يزيد، عن أبي إدريس الخولاني، عن بلال، رفعه. وقال الترمذي بإثره: هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث بلال إلّا من هذا الوجه، ولا يصح من قبل إسناده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3549) نے روایت کر کے اسے ابوادریس عن بلال والی روایت سے زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: بلال والی روایت "سخت ضعیف" ہے کیونکہ اس کا راوی محمد المصلوب کذاب (جھوٹا) ہے۔
وقول الترمذي في حديث الخولاني عن أبي أمامة: وهذا أصح من حديث أبي إدريس عن بلال، لا يعني أنه أراد صحته، وإنما أراد الصحة النسبية، أي: أنه أرجح، وإلّا فهو ضعيف كما سلف، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی کا الخولانی عن ابی امامہ کی حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ "یہ بلال والی حدیث سے زیادہ صحیح ہے"؛ اس سے مراد اس کی مطلق صحت نہیں بلکہ نسبتی صحت (ترجیح) ہے، ورنہ یہ روایت بھی ضعیف ہی ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔