🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. مجيء ملك الموت عند قبض الروح ، وذكر ما يكون بعد ذلك فى القبر للمؤمن والكافر
روح قبض کرنے کے وقت فرشتۂ موت کی آمد اور قبر میں مومن و کافر کے حالات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان الحرَّاني، حدثنا فُلَيح بن سليمان، حدثني هلال بن علي - وهو ابن أبي ميمونة - عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ وبلالٌ يمشيان بالبَقيع، فقال رسول الله ﷺ:"يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟" قال: لا والله يا رسول الله، ما أَسمعُه، قال:"ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا على حديث شُعْبة عن قتادة عن أنس عن النبي ﷺ أنه قال:"لولا أن لا (2) تَدافَنُوا، لسألتُ اللهَ أن يُسمِعَكم عذابَ القبر" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 118 - على شرطهما
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بقیع (قبرستان) میں چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا بلالُ، هل تسمعُ ما أسمعُ؟» اے بلال! کیا تم وہ سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! میں نہیں سن رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ألَا تسمعُ أهلَ القبور يُعذَّبون» کیا تم قبر والوں کو نہیں سن رہے جنہیں عذاب دیا جا رہا ہے؟
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، تاہم انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اس کی تخریج نہیں کی، انہوں نے صرف «شعبه عن قتاده عن انس» کی حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم (ڈر کے مارے) اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر سنا دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 119]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 119 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل فليح بن سليمان، فهو ممَّن يتحسن حديثه في المتابعات والشواهد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور فلیح بن سلیمان کی وجہ سے یہ سند حسن کے درجے کی ہے، کیونکہ متابعات و شواہد میں ان کی حدیث حسن سمجھی جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد 21/ (13719) عن سريج بن النعمان، عن فليح بن سليمان، به - وزاد في آخره: يعني قبور الجاهلية.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے (21/13719) میں فلیح بن سلیمان کے واسطے سے اسے روایت کیا اور آخر میں "یعنی جاہلیت کی قبریں" کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
وقوله في الحديث هنا: "بالبقيع" غلط من فليح، والمحفوظ في حديث بلال هذا أنَّ الحادثة كانت في نخلٍ لأبي طلحة، هكذا رواه عبد الوارث بن سعيد عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس فيما أخرجه أحمد 20/ (12530)، والإسناد صحيح.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حدیث میں "بقیع" کا لفظ راوی فلیح کی غلطی ہے، جبکہ حضرت بلال کی اس روایت میں محفوظ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ابوطلیحہ کے کھجوروں کے باغ میں پیش آیا تھا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالوارث بن سعید نے عبدالعزیز بن صہیب عن انس کی صحیح سند سے روایت کیا ہے جسے امام احمد نے (20/12530) پر نقل کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه بلفظ يجمع بين هذا وبين لفظ حديث قتادة الآتي: أحمد 19/ (12007)، والنسائي (2196)، وابن حبان (3126) من طريق حميد الطويل، وأحمد 20/ (12791) من طريق ثابت البناني، كلاهما عن أنس بن مالك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، نسائی (2196) اور ابن حبان (3126) نے حمید الطویل کے طریق سے، اور امام احمد نے ثابت بنانی کے طریق سے (دونوں انس بن مالک سے) روایت کیا ہے، جس کے الفاظ موجودہ اور آنے والی قتادہ کی روایت کے مجموعے کے مشابہ ہیں۔
(2) لفظ "لا" سقط من المطبوع.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مطبوعہ نسخے میں لفظ "لا" (نہیں) گر گیا ہے۔
(3) لم يتفقا عليه كما قال المصنف، وإنما أخرجه مسلم دون البخاري، وهو في "صحيحه" برقم (2868).
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کا یہ کہنا کہ اس پر شیخین کا اتفاق ہے، درست نہیں ہے، بلکہ اسے صرف امام مسلم نے روایت کیا ہے (صحیح بخاری میں یہ مروی نہیں ہے)۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ "صحیح مسلم" میں نمبر (2868) کے تحت موجود ہے۔
وأخرجه من هذا الطريق أيضًا أحمد 20/ (12808)، وابن حبان (3131).
📖 حوالہ / مصدر: اسی طریق سے اسے امام احمد نے (20/12808) اور امام ابن حبان نے (3131) میں بھی روایت کیا ہے۔