المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. المحافظة على صلاة الضحى وهى صلاة الأوابين
نمازِ چاشت کی پابندی، اور یہی اوّابین کی نماز ہے۔
حدیث نمبر: 1197
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا بكر بن مُضَر، حدثنا عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن الأشَجِّ، عن الضَّحّاك بن عبد الله القُرشي، حدَّثه عن أنس بن مالك قال: رأيتُ رسول الله ﷺ في سَفَرٍ صلَّى سُبْحةَ الضحى ثمانيَ رَكَعات، فلما انصرف قال:"إني صليتُ صلاةَ رَغْبةٍ ورَهْبة، فسألتُ ربي ثلاثًا، فأعطاني اثنتين ومَنَعني واحدةً، سألتُه أن لا يقتلَ أمتي بالسِّنين، ففعل، وسألتُه أن لا يُظهِرَ عليهم عدوًّا، ففعل، وسألته أن لا يُلبِسَهم شِيَعًا، فأَبى عليَّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا على حديث أم هانئ في ثمان ركعاتِ الضحى فقط (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتفقا على حديث أم هانئ في ثمان ركعاتِ الضحى فقط (2) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفر کے دوران چاشت کے آٹھ نفل پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں نے رغبت اور خوف کے ساتھ یہ نماز پڑھی ہے، اور میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا، تو اللہ نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے تو اللہ نے یہ قبول فرما لیا، میں نے سوال کیا کہ ان پر کوئی بیرونی دشمن غالب نہ آئے تو اللہ نے یہ بھی قبول فرما لیا، اور میں نے سوال کیا کہ وہ انہیں آپس میں فرقوں میں تقسیم نہ کرے تو اللہ نے اس سے منع فرما دیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی آٹھ رکعات والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1197]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کی آٹھ رکعات والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة التطوع/حدیث: 1197]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1197 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الضحاك بن عبد الله القرشي، فلم يرو عنه غير بكير - وهو ابن عبد الله بن الأشج - ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) "صحیح لغیرہ" ہے؛ ضحاک بن عبداللہ کی جہالت کی وجہ سے سند ضعیف ہے مگر شواہد اسے صحیح بناتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 19/ (12486) و 20/ (12589)، والنسائي (489) من طريقين عن عمرو بن الحارث، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (12486/19) اور نسائی (489) نے عمرو بن الحارث کی سند سے روایت کیا ہے۔
لكن للحديث شواهد يصح بها، منها حديث ثوبان وسعد بن أبي وقاص عند مسلم (2889) و (2890). وحديث ثوبان سيأتي عند المصنف مطوَّلًا برقم (8595).
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد حضرت ثوبان اور سعد بن ابی وقاص کی صحیح مسلم (2889) والی احادیث ہیں۔
وحديث أبي هريرة، وسيأتي برقم (8789). وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: ابوہریرہ کی روایت آگے نمبر (8789) پر حسن سند سے آئے گی۔
وانظر تتمة شواهده وتخريجه وتفصيل الكلام على إسناده في عملنا على "مسند أحمد" (12486).
🔍 فنی نکتہ: مزید شواہد کے لیے مسند احمد (12486) پر ہمارا کام دیکھیں۔
شِيَعًا: فِرَقًا، ويَلبِسهم: يجعلهم مختلطين؛ يعني في المعارك متحاربين.
📝 (توضیح): "شِيَعًا" کا مطلب ہے گروہ در گروہ؛ "يَلبِسهم" کا مطلب ہے انہیں آپس میں الجھا دینا یعنی جنگ و جدال۔
(2) البخاري (1103) و (1176) و (4292)، ومسلم (336) عن أم هانئ قالت: إنَّ النبي ﷺ دخل بيتها يوم فتح مكة، فاغتسل وصلى ثماني ركعات، فلم أر صلاةً قط أخف منها، غير أنه يتم ¤ ¤ الركوع والسجود.
📖 حوالہ / مصدر: (2) بخاری (1103) اور مسلم (336) میں ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے آٹھ رکعت (چاشت) پڑھیں جو نہایت ہلکی مگر مکمل تھیں۔