🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. تَقْلِيبُ الرِّدَاءِ وَالتَّكْبِيرَاتُ وَالْقِرَاءَةُ فِي صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ
نمازِ استسقاء میں چادر پلٹنا، تکبیریں کہنا اور قراءت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1238
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا عُبيدُ بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن يزيد بن عبد الله، عن عُمَير مولى آبي اللَّحْم، عن آبي اللحم: أنه رأى رسولَ الله ﷺ عند أحجار الزَّيت يَستسقِي مُقْنِعًا بكفَّيه يدعو هكذا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعُمير مولى آبي اللَّحْم له صُحْبة. وبصحة ذلك:
عمیر مولیٰ آبي اللحم، آبي اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: انہوں نے أحجار الزيت کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز استسقاء پڑھاتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو چہرے کے سامنے کر کے اس طرح دعا مانگ رہے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عمیر مولیٰ آبي اللحم کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ اور اس کی صحت کی دلیل (اگلی حدیث میں ہے): [المستدرك على الصحيحين/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات، إلا أن سعيد بن أبي هلال وقع له في هذا الإسناد وهمٌ بإسقاط محمد بن إبراهيم التيمي بين يزيد بن عبد الله - وهو ابن الهاد - وبين عمير مولى آبي اللحم، والعجيب أنَّ الحافظ ابن حجر قد وهم في "إتحاف المهرة" 1/ 171 فأثبته، فيبدو أنه سلك فيه طريق الجادّة، والله أعلم-» [ترقيم الرساله 1238] [ترقيم الشركة 1227]

الحكم على الحديث: حديث صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1238 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، رجاله ثقات، إلا أن سعيد بن أبي هلال وقع له في هذا الإسناد وهمٌ بإسقاط محمد بن إبراهيم التيمي بين يزيد بن عبد الله - وهو ابن الهاد - وبين عمير مولى آبي اللحم، والعجيب أنَّ الحافظ ابن حجر قد وهم في "إتحاف المهرة" 1/ 171 فأثبته، فيبدو أنه سلك فيه طريق الجادّة، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) "حدیث صحیح" ہے اور راوی ثقہ ہیں، مگر سعید بن ابی ہلال کو وہم ہوا کہ انہوں نے یزید بن الہاد اور عمیر کے درمیان سے "محمد بن ابراہیم التیمی" کا نام گرا دیا، حافظ ابن حجر سے بھی یہاں سہو ہوا ہے۔
الليث: هو ابن سعد، وخالد بن يزيد: هو الجمحي المصري، وآبي اللحم اسمه: عبد الله بن عبد الملك من بني غِفار، قيل: سُمِّي آبي اللحم لأنه كان يأبى أن يأكل اللحم.
🔍 فنی نکتہ: لیث سے مراد ابن سعد اور خالد بن یزید سے مراد الجمحی ہیں۔ "آبی اللحم" (گوشت سے انکار کرنے والے) کا اصل نام عبداللہ بن عبدالملک الغفاری تھا۔
وأخرجه أحمد 36/ (21943)، والترمذي (557)، والنسائي (1833) عن قتيبة بن سعيد، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. قال الترمذي: كذا قال قتيبة في هذا الحديث: عن آبي اللحم، ولا نعرف له عن النبي ﷺ إلّا هذا الحديث الواحد، وعمير مولى آبي اللحم قد روى عن النبي ﷺ أحاديث، وله صحبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (21943/36)، ترمذی (557) اور نسائی نے قتیبہ بن سعید کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے کہا کہ آبی اللحم سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے جبکہ ان کے غلام عمیر کی کئی احادیث ہیں۔
وقد تابع يحيى بنَ بكير وقتيبةَ بنَ سَعيد على جعله من حديث آبي اللحم: عبدُ الله بن صالح، عن الليث بن سعد، به عند الطبراني (6714).
📖 حوالہ / مصدر: یحییٰ بن بکیر اور قتیبہ کی متابعت عبداللہ بن صالح نے کی ہے جیسا کہ طبرانی (6714) میں ہے۔
وسيأتي الحديث برقم (1984) من طريق عبد الله بن عبد الحكم وشعيب بن الليث، كلاهما عن الليث بن سعد، به، لم يذكرا فيه آبي اللحم. لكن وقع في "تلخيص الذهبي" هناك زيادة "آبي اللحم"، وكذا في "إتحاف المهرة"، ولكنها لم ترد في أصولنا الخطية، والله أعلم.
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (1984) پر شعیب بن لیث کے طریق سے آئے گی مگر اس میں آبی اللحم کا ذکر نہیں ہوگا۔
وبرقم (6759) من طريق ابن لهيعة، عن محمد بن زيد بن المهاجر بن قنفذ، عن عمير مولى آبي اللحم، عن النبي ﷺ، لم يذكر فيه آبي اللحم أيضًا، ويأتي تخريجه من هذه الطريق هناك.
🔁 تکرار: نمبر (6759) پر ابن لہیعہ کی سند سے عمیر مولیٰ آبی اللحم سے مروی آئے گی۔
وأخرجه أحمد 36/ (21944) و (21945)، وأبو داود (1168)، وابن حبان (878) و (879) من طريق حيوة وعمر بن مالك - جمعهما بعضهم، وبعضهم فرَّقهما - عن ابن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن عمير مولى آبي اللحم: أنه رأى النبي ﷺ يستسقي عند أحجار الزيت، قريبًا من الزوراء، قائمًا، يدعو يستسقي، رافعًا يديه قِبل وجهه، لا يجاوز بهما رأسه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (1168) اور ابن حبان نے حیوہ اور عمر بن مالک کی سندوں سے روایت کیا ہے کہ: "آپ ﷺ احجار الزیت (مدینہ کا ایک مقام) کے پاس استسقاء کر رہے تھے اور ہاتھ چہرے کے سامنے تک اٹھائے ہوئے تھے"۔
وأخرج أحمد 26/ (16413)، وأبو داود (1172) من طريق شعبة، عن عبد ربه بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم، أخبرني من رأى النبي ﷺ يدعو عند أحجار الزيت باسطًا كفيه. ¤ ¤ وقوله: "أحجار الزيت" قال ياقوت: موضع بالمدينة قريب من الزوراء، وهو موضع صلاة الاستسقاء.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (16413/26) اور ابوداؤد نے شعبہ عن عبد ربہ کی سند سے روایت کیا ہے۔ "احجار الزیت" مدینہ میں الزوراء کے پاس استسقاء کی نماز کی جگہ تھی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1238 in Urdu