المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
57. إذا كان أجل أحد بأرض أثبت الله له إليها حاجة
جب کسی کی موت کا وقت کسی سرزمین میں مقرر ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں وہاں جانے کی کوئی ضرورت پیدا فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 124
حدثني أبو الحسن علي بن العباس الإسكندراني العَدل بمكة، حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمد بن عبد الواحد الحِمْصي، حدثنا أبو الحسن كَثير بن عُبيد ابن نُمير المَذْحِجي، حدثنا محمد بن خالد الوَهبي، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"إذا كانت مَنِيَّةُ أحدِكم بأرضٍ، أُتيحَ له الحاجةُ فيقصدُ إليها، فيكون أقصى أثره منه فيُقبَضُ فيها، فتقول الأرضُ يومَ القيامة: ربِّ هذا ما استَودَعتني" (1) . وقد أسنده هُشَيم عن إسماعيل بن أبي خالد:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی موت کسی سرزمین پر مقدر ہو، تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت مہیا کر دی جاتی ہے اور وہ اس کا قصد کرتا ہے، پھر جب وہ وہاں اپنے آخری نشانِ قدم تک پہنچتا ہے تو وہیں اس کی روح قبض کر لی جاتی ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین عرض کرتی ہے: اے میرے رب! یہ وہ امانت ہے جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“
اسے ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے مسنداً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 124]
اسے ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے مسنداً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 124]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 124 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح كسابقه، وسيأتي مكررًا بإسناده ومتنه برقم (1374)، وانظر الحديثين بعده هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی صحیح ہے، اور یہی روایت اپنی سند و متن کے ساتھ آگے نمبر (1374) پر دوبارہ آئے گی۔