🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. إذا كان أجل أحد بأرض أثبت الله له إليها حاجة
جب کسی کی موت کا وقت کسی سرزمین میں مقرر ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں وہاں جانے کی کوئی ضرورت پیدا فرما دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
ما حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا قبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان. وأخبرني بُكير بن محمد بن الحدَّاد الصوفي بمكة، حدثنا أبو مسلم، حدثنا عبَّاد ابن موسى، حدثنا سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق - واللفظ له - أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن مَطَر بن عُكامِسٍ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا قَضَى الله لرجل موتًا ببلدةٍ، جَعَلَ له بها حاجةً" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 125 - على شرطهما
سیدنا مطر بن عکامس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی شخص کی موت کا فیصلہ کسی شہر میں فرما دیتا ہے، تو وہاں اس کے لیے کوئی حاجت پیدا فرما دیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 126]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 126 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح على اختلاف في صحبة مطر بن عكامس، والأكثر على أنَّ له صحبة. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النَّهدي، وسفيان: هو الثَّوْري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مطر بن عکامس کی صحابیت میں اختلاف ہے، مگر اکثر کے نزدیک وہ صحابی ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: راوی ابوحذیفہ سے مراد "موسیٰ بن مسعود نہدی"، سفیان سے مراد "سفیان ثوری" اور ابواسحاق سے مراد "عمرو بن عبداللہ سبیعی" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2146)، وعبد الله بن أحمد في زوائده على المسند 36/ (21983) من طريقين عن سفيان الثوري، به. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2146) اور عبداللہ بن احمد نے "زوائد المسند" (36/21983) میں سفیان ثوری کے دو مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد أيضًا (21984) من طريق حديج أبي سليمان، عن أبي إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے (21984) پر حديج ابوسلیمان عن ابواسحاق (سبیعی) کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔