🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. الدعاء الذى يشفي الله به مريضا لم يحضر أجله
وہ دعا جس کے ذریعے اللہ اس بیمار کو شفا دیتا ہے جس کی موت کا وقت نہیں آیا ہوتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1285
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد ربه بن سعيد، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن عادَ أخاه المسلم، فقعد عندَ رأسه، ثم قال سبعَ مرات: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرش العظيم أن يَشفِيكَ، عُوفيَ إن لم يكن أجلُه حَضَر" (1) .
هذا حديث شاهد صحيح غريب من رواية المِصريِّين عن المدنيين عن الكوفيين، لم نكتبه عاليًا إلّا عنه. وقد خالف الحجاجُ بن أرطاةَ الثقاتِ في هذا الحديث عن المنهالِ بن عمرو:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ» میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے۔ تو اگر اس کی موت کا وقت نہ آیا ہو تو اسے ضرور شفا نصیب ہوگی۔
یہ حدیث ایک شاہد، صحیح اور غریب ہے جو مصریوں کی مدنیوں سے اور مدنیوں کی کوفیوں سے روایت ہے، جسے ہم نے صرف اسی سند سے عالی لکھا ہے۔ اس حدیث میں حجاج بن ارطاہ نے ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1285]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1285 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "جید" ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2978) عن أبي يعلى الموصلي، عن هارون بن معروف، والطبراني في "الدعاء" (1120) من طريق حرملة بن يحيى التجيبي، كلاهما عن عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن عبد ربه بن سعيد الأنصاري، عن المنهال بن عمرو، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2978) نے ابویعلیٰ اور طبرانی نے ابن وہب کے طریق سے عمرو بن الحارث کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (10815) عن وهب بن بيان، وأبو يعلى في "مسنده" (2430)، وعنه ابن عدي في "الكامل" 6/ 330 عن هارون بن معروف، وابن حبان (2975)، والضياء في "المختارة" 10/ (399) من طريق حرملة بن يحيى التجيبي، والحاكم فيما سيأتي برقم (7677) من طريق بحر بن نصر، أربعتهم عن عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن عبد ربه بن سعيد، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس - فزادوا في الإسناد عبدَ الله بن الحارث. وقد جاء في رواية النسائي وأبي يعلى وابن عدي والضياء: المنهال بن عمرو مرةً قال: أخبرني سعيد بن جبير، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس. ومعنى ذلك: أن المنهال مرة قال: عن سعيد بن جبير عن ابن عباس، كما في إسناد المصنف هنا، ومرة قال: عن سعيد بن جبير عن عبد الله بن الحارث عن ابن عباس، بزيادة عبد الله بن الحارث بينهما، فالضمير في "قال" يعود على المنهال، بمعنى أنه روي عنه على الوجهين، كذلك جاءت عبارة "مرة قال" بعد المنهال بن عمرو في أصلَي "سنن النسائي الكبرى" الخطيين: نسخة الرباط، ونسخة ملا مراد، وهو الصواب، خلافًا لما توهّم محقّقه من أن ذلك خطأ، فيستدرك من هنا.
⚠️ سندی اختلاف: نسائی (10815) اور ابن حبان نے ابن وہب کے طریق سے روایت کیا جس میں "سعید بن جبیر اور عبداللہ بن حارث" دونوں کا واسطہ موجود ہے۔ منہال بن عمرو اسے دونوں طرح (کبھی واسطے کے ساتھ، کبھی بغیر) بیان کرتے تھے۔
وقد خالف أصحابَ عبد الله بن وهب هؤلاء: أحمدُ بن عيسى بن حسان المصري عند البخاري في "الأدب المفرد" (536) حيث رواه عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن عبد ربه بن سعيد، عن المنهال، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس، بإسقاط سعيد بن جبير منه، فالذي يغلب على الظن أن ذلك وهم، لأن كل الذين رووه عن المنهال قد ذكروا سعيدًا، فحذفه من الإسناد خطأ، والله تعالى أعلم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: احمد بن عیسیٰ نے بخاری کے "الادب المفرد" (536) میں سعید بن جبیر کا نام گرا دیا ہے، جو غالباً ان کا وہم ہے کیونکہ دیگر تمام راویوں نے سعید کا نام لیا ہے۔
تنبيه: قوله في إسناد النسائي السابق: "ومرة سعيد" جعل المزي "مرة" في كتابيه "التحفة" و"التهذيب" اسمَ رجل غير منسوب، وهذا وهمٌ تابعه عليه الحافظ ابن حجر رحمهما الله.
⚠️ تنبیہ: علامہ مزی اور ابن حجر سے نسائی کی سند کے ایک لفظ "مرۃ" کو نام سمجھنے میں وہم ہوا ہے، جبکہ وہ "ایک بار" (مرتبہ) کے معنوں میں ہے۔