المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. حالة قبض روح المؤمن وروح الكافر وما يقال له ويفعل به
مؤمن کی روح اور کافر کی روح قبض کیے جانے کی کیفیت، اور ان سے کیا کہا جاتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1320
حدَّثَنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا همَّام، عن قَتادة عن أبي الجَوْزاء، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إنّ المؤمنَ إذا حَضَرَه الموتُ، حَضَره ملائكةُ الرحمة"، ثم ذكر الحديث بنحوه (2) . هذه الأسانيد كلها صحيحة، وشاهدها حديث البراء بن عازب، وقد أمليتُه في كتاب الإيمان (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں“، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مکمل تذکرہ کیا۔
یہ تمام اسانید صحیح ہیں اور ان کی شاہد حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے میں نے ”کتاب الایمان“ میں املاء کروا دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1320]
یہ تمام اسانید صحیح ہیں اور ان کی شاہد حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے میں نے ”کتاب الایمان“ میں املاء کروا دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1320]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1320 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح بما قبله، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند حسن ہے۔ عبدالرحمن بن سلمان الحجری متابعات میں معتبر ہیں اور حافظ ابن حجر نے انہیں "لا بأس به" کہا ہے۔ "حجری" ایک معروف قبیلہ حجرِ رعین کی نسبت ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3013) من طريق هدبة بن خالد، عن همام بن يحيى، بهذا الإسناد.
🔍 فنی نکتہ: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس، احمد بن عیسیٰ سے مراد ابوحسان المصری اور مقبری سے مراد سعید بن ابی سعید ہیں۔
(3) سلف برقم (107)، وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (9397) میں احمد بن عبدالرحمن (ابن وہب کے بھتیجے) کے طریق سے روایت کیا ہے۔