🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. حَالَةُ قَبْضِ رُوحِ الْمُؤْمِنِ وَرُوحِ الْكَافِرِ وَمَا يُقَالُ لَهُ وَيُفْعَلُ بِهِ
مؤمن کی روح اور کافر کی روح قبض کیے جانے کی کیفیت، اور ان سے کیا کہا جاتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1318
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الأَدَمي بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتادة، عن قَسَامةَ بن زهير، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إنَّ المؤمن إذا احتُضِرَ أَتتْه ملائكةُ الرحمة بحَرِيرةٍ بيضاء، فيقولون: اخرُجي راضيةً مَرْضِيَّةً عنك إلى رَوْح الله ورَيْحان، ورَبٍّ غيرِ غَضْبان، فتَخْرُجُ كأطيبِ ريح مِسْكٍ، حتى إنهم لَيُناولُه بعضُهم بعضًا يَشَمُّونه، حتى يأتوا به بابَ السماء فيقولون: ما أطيبَ هذه الرِّيحَ التي جاءتكم من الأرض! فكُلَّما أتَوْا سماءً قالوا ذلك، حتى يأتُوا به أرواحَ المؤمنين، قال: فلهم أفرَحُ به من أحدِكم بغائبِه إِذا قَدِمَ عليه، قال: فيَسألونَه: ما فَعَلَ فلان؟ قال: فيقولون: دَعُوه حتى يَستَريح، فإنه كان في غَمِّ الدنيا، فإذا قال لهم: أمَا أتاكم، فإنه قد مات؟ قال: فيقولون: ذُهِب به إلى أُمِّه الهاويةِ. قال: وأما الكافرُ، فإنَّ ملائكةَ العذاب تأتيه فتقول: اخرُجي ساخِطةً مسخوطًا عليكِ إلى عذاب الله وسَخَطِه، فيخرجُ كأنتَن ريحِ جِيفةٍ، فينطلقون به إلى باب الأرض، فيقولون: ما أنتَنَ هذه الرِّيحَ! كلَّما أتَوْا على أرضٍ قالوا ذلك، حتى يأتُوا به أرواحَ الكفار" (1) . وقد تابع هشامُ بنُ أبي عبد الله الدَّستُوائي معمرَ بنَ راشد في روايته عن قَتَادة عن قَسَامةَ بن زهير:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مومن کی جب وفات کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں: تو (اے روح!) اللہ کی رحمت اور خوشبو کی طرف، اور اپنے ایسے رب کی طرف جو تجھ سے ناراض نہیں ہے، راضی اور خوش ہو کر نکل آ، چنانچہ وہ روح مشک کی بہترین خوشبو کی طرح نکلتی ہے، یہاں تک کہ فرشتے اسے ایک دوسرے کو تھماتے ہیں اور سونگھتے ہیں، حتیٰ کہ اسے لے کر آسمان کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: یہ کیسی پاکیزہ خوشبو ہے جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے! وہ جس آسمان پر بھی پہنچتے ہیں وہاں کے فرشتے یہی کہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے مومنوں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ اس کے آنے پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتی ہیں جتنا تم میں سے کوئی اپنے کسی غائب کے واپس آنے پر خوش ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اس سے پوچھتی ہیں: فلاں شخص نے کیا کیا؟ تو فرشتے کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو تاکہ یہ سکون حاصل کر لے، کیونکہ یہ دنیا کے غم و فکر میں تھا، پھر جب وہ روح ان سے کہتی ہے کہ کیا وہ شخص تمہارے پاس نہیں آیا، حالانکہ وہ تو فوت ہو چکا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں: اسے اس کے ٹھکانے ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا کافر، تو اس کے پاس عذاب کے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں: تو اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی طرف، ناپسندیدہ اور غضبناک حالت میں نکل آ، تو وہ روح مردار کی بدترین بو کی طرح نکلتی ہے، پھر وہ اسے لے کر زمین کے دروازے کی طرف جاتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ کیسی گندی بو ہے! وہ جس زمین سے بھی گزرتے ہیں وہاں کے فرشتے یہی کہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اسے کافروں کی روحوں کے پاس لے جاتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1318]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1319
أخبرَنيهِ أبو بكر بن عبد الله، أخبرنا الحسنُ بن سفيان، حدثنا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن قَسَامة بن زهير، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، نحوه (1) . وقال همَّام بنُ يحيى: عن قتادة، عن أبي الجَوْزاء، عن أبي هريرة:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح (مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی) ارشاد فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1319]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1320
حدَّثَنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا همَّام، عن قَتادة عن أبي الجَوْزاء، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"إنّ المؤمنَ إذا حَضَرَه الموتُ، حَضَره ملائكةُ الرحمة"، ثم ذكر الحديث بنحوه (2) . هذه الأسانيد كلها صحيحة، وشاهدها حديث البراء بن عازب، وقد أمليتُه في كتاب الإيمان (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مکمل تذکرہ کیا۔
یہ تمام اسانید صحیح ہیں اور ان کی شاہد حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جسے میں نے کتاب الایمان میں املاء کروا دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1320]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں