🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. يوجه المحتضر إلى القبلة
نزع کی حالت میں موجود شخص کو قبلہ رخ کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1322
أخبرني أبو قُتيبة سَلْمُ (1) بن الفضل الأَدَمي بمكة، حدثنا إبراهيم بن هاشم البَغَوي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثنا أبو معاوية، حدثنا أبو بُرْدة بُرَيد بنُ عبد الله (2) ، عن عَلْقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: لما أخذوا في غَسْل رسول الله الله فإذا هم بمُنادٍ من الداخل: لا تُخرِجوا (3) عن رسول الله ﷺ قميصَه (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوبکر بن ابی شیبہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا تو اچانک گھر کے اندر سے ایک پکارنے والے نے آواز دی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص مبارک نہ اتارنا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1322] [ترقيم الشركة 1310]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1322 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرف في (ص) و (ب) و (ع) إلى: سالم.
⚖️ درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں کہ عاصم اس میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ ابوصخر حمید بن زیاد نے بھی سعید المقبری سے اسے روایت کیا ہے (اگرچہ موقوفاً)، لیکن چونکہ یہ غیب کی بات ہے اس لیے یہ مرفوع ہی مانی جائے گی۔
(2) كذا سماه المصنف هنا: بريد بن عبد الله، وكذلك سماه فيما سيأتي برقم (1354)، وأخرجه عنه البيهقي في "السنن" 3/ 387، وفي "الدلائل" 7/ 242 - 243، وسكت عنه، لكن خالف ذلك الحاكمُ نفسُه كما في "سؤالات السجزي له" (152)، حيث قال السجزي: وسألته عن أبي بردة الحنفي الذي يروي عن علقمة بن مرثد؟ فقال عمرو بن يزيد، شيخ من أهل الكوفة.
🧩 متابعات و شواہد: عاصم کی متابعت محمد بن فضیل اور عبدالرحمن بن ابی الجون نے بھی عبداللہ بن سعید سے روایت کرتے ہوئے کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عاصم سے نام میں وہم نہیں ہوا۔
وذهب المزي في "تحفة الأشراف" 2/ 76 إلى أنَّ أبا بردة هذا الذي يروي عن علقمة بن مرثد، ويروي عنه أبو معاوية الضرير، هو عمرو بن يزيد التميمي، ونقل ذلك في "تهذيب الكمال" 22/ 299 عن ابن معين، وقد جزم بذلك الدارقطني كما نقله عنه ابن الملقن في "البدر المنير" 5/ 202، وإلى ذلك ذهب البوصيري في "مصباح الزجاجة" 2/ 26 وقال في تصحيح الحاكم له وتسميته بريد بن عبد الله فيه نظر، وإنَّ اسمه عمرو بن يزيد ووهَّم الحاكم أيضًا في "مستدركه" ابن عبد الهادي في "التنقيح" 2/ 617.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: ممکن ہے عاصم نے اسے سعید اور عبداللہ دونوں سے سنا ہو، واللہ اعلم۔
(3) في "تلخيص المستدرك" للذهبي: لا تنزعوا.
🔍 فنی نکتہ: اس بارے میں شیخ البانی رحمہ اللہ کی "السلسلة الصحيحة" (272) ملاحظہ فرمائیں۔
(4) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو بردة الصواب أنه عمرو بن يزيد كما بيناه سابقًا، وهو ضعيف، فقد ضعفه ابن معين وأبو حاتم وأبو داود وغيرهم. أبو معاوية: هو محمد بن خازم ¤ ¤ الضرير وصحابيه هو: بريدة بن الحُصيب.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی اور ابن ابی دنیا نے اوزاعی عن حسان بن عطیہ کی سند سے اسے ابوہریرہ پر موقوف روایت کیا ہے کہ: "جب مومن بیمار ہوتا ہے تو دائیں طرف والے فرشتے کو حکم ہوتا ہے کہ اس کے نیک اعمال لکھتے رہو"۔ حسان کا ابوہریرہ سے سماع نہیں ہے اس لیے یہ منقطع ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1466) عن سعيد بن يحيى بن الأزهر، عن أبي معاوية، عن أبي بردة - ولم يسمِّه - بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن شاہین نے امام مالک کے طریق سے روایت کیا ہے کہ: "بیماری میں اللہ دو فرشتے بھیجتا ہے کہ دیکھو وہ عیادت کرنے والوں سے کیا کہتا ہے..."۔ اس کی سند میں علی بن محمد ضعیف ہیں اور دارقطنی کے مطابق امام مالک سے اس کی سند منقطع ہے۔
ويشهد له حديث عائشة الآتي برقم (4446)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: امام مالک نے اسے "موطأ" (940/2) میں مرسل روایت کیا ہے، لیکن عباد بن کثیر اور سلیمان بن سلیم نے اسے حضرت ابوسعید خدری سے موصول روایت کیا ہے جو ابوہریرہ کی حدیث کا شاہد ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1322 in Urdu