المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. كراهة الركوب مع الجنازة
جنازے کے ساتھ سواری کرنے کی کراہت۔
حدیث نمبر: 1332
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن سُهَيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرةَ قال: كان رسول الله ﷺ إذا كان مع الجِنازة لم يَجلِسْ حتى تُرفَعَ أو تُوضَع (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بمثل هذا الإسناد عن أبي سعيد:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ بمثل هذا الإسناد عن أبي سعيد:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازے کے ساتھ ہوتے تو اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے جب تک اسے (کندھوں پر) اٹھا نہ لیا جاتا یا (زمین پر) رکھ نہ دیا جاتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوسعید خدری سے بھی اس کی شاہد حدیث مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1332]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوسعید خدری سے بھی اس کی شاہد حدیث مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1332]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1332 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو الحَرَشي، ذكره الذهبي في "تاريخ الإسلام" 6/ 819 وقال: كان صدوقًا مقبولًا. قلنا: وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) "حدیث صحیح" ہے؛ محمد بن عمرو الحرشی صدوق اور مقبول راوی ہیں اور ان کی متابعت موجود ہے۔
يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، وأبو صالح والد سهيل هو ذكوان السمان.
🔍 فنی نکتہ: ابومعاویہ سے مراد الضریر اور ابوصالح سے مراد ذکوان السمان ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (3105) و (3106)، من طريق مسدد، عن أبي معاوية بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3105، 3106) نے مسدد عن ابی معاویہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفيه: لم يجلس حتى توضع في اللحد أو تدفن. شك أبو معاوية.
📝 (توضیح): اس میں شک ہے کہ "جب تک میت لحد میں نہ رکھ دی جائے" یا "جب تک دفن نہ کر دی جائے" تب تک نہ بیٹھے۔
وأخرجه البيهقي 4/ 26 من طريق سفيان الثوري، عن سهيل بن أبي صالح، به. وفيه: فلا يجلس حتى توضع بالأرض.
📖 حوالہ / مصدر: بیہقی کی روایت میں ہے: "جب تک جنازہ زمین پر نہ رکھ دیا جائے تب تک نہ بیٹھے"۔
وأخرج أحمد 13/ (7593) من طريق سعيد ابن مرجانة، عن أبي هريرة رفعه: "من صلى على جنازة فلم يمش معها فليقم حتى تغيب عنه، ومن مشى معها فلا يجلس حتى توضع".
📖 حوالہ / مصدر: مسند احمد (7593/13) میں مروی ہے: "جو جنازے کے ساتھ نہ چلے وہ اس کے نظروں سے اوجھل ہونے تک کھڑا رہے"۔
وأخرج النسائي (2056) من طريق ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن أبي هريرة وأبي سعيد الخدري قالا: ما رأينا رسول الله ﷺ شهد جنازة قط فجلس حتى توضع.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی (2056) میں حضرت ابوہریرہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا۔
وسيأتي بعده من حديث أبي سعيد الخدري وحده.
🔁 تکرار: اس کے بعد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی تنہا روایت آئے گی۔
وفي الباب عن عامر بن ربيعة، كما سيشير إليه المصنف بإثر الحديث التالي.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا اشارہ اگلی روایت میں آئے گا۔