🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. المسك أطيب الطيب
مشک سب خوشبوؤں میں سب سے عمدہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1351
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن سِنَان القزَّاز، حدثنا أبو داود الطيالسي، حدثنا شُعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو عمر الحَوْضي ومسلم بن إبراهيم، قالا: حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو علي الحافظ، حدثنا علي بن العباس البَجَلي، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن خُلَيد بن جعفر، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"أطيبُ الطِّيبِ المِسْكُ" (1) . تابعه المستمِرُّ بن الرَّيّان عن أبي نَضْرة:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین خوشبو کستوری ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1351]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1351 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. محمد بن غالب: هو ابن حرب أبو جعفر الضبي، وأبو عمر الحوضي: هو حفص بن عمر بن الحارث، ومسلم بن إبراهيم: هو الأزدي الفراهيدي، وأبو علي الحافظ: هو الحسين بن علي، وأبو كريب: هو محمد بن العلاء، وخليل بن جعفر: هو ابن طريف الحنفي، وأبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ تمام راوی ثقہ ہیں اور ابونضرہ سے مراد منذر بن مالک ہیں۔
وأخرجه الترمذي (991)، والنسائي (2043) عن محمود بن غيلان، عن أبي داود الطيالسي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (991) اور نسائی (2043) نے محمود بن غیلان عن ابی داؤد طیالسی کی سند سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے "حسن صحیح" کہا۔
وأخرجه أحمد 17/ (11269) و 18/ (11439)، والترمذي (992)، وابن حبان (1378) من طرق عن وكيع بن الجراح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور ابن حبان (1378) نے وکیع بن جراح کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11646) و (11832)، ومسلم (2252) (18) و (19)، والترمذي (991)، والنسائي (2043) و (9352) و (9353) من طرق عن شعبة، به. وأورده بعضهم ضمن قصة لامرأة من بني إسرائيل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور مسلم (2252/18) نے شعبہ کے طریق سے روایت کیا ہے، بعض نے اسے بنی اسرائیل کی ایک عورت کے قصے کے ضمن میں بیان کیا ہے۔
وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ: اس کے بعد والی روایت دیکھیں۔