المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
64. البكاء على الميت
میت پر رونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1424
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا أبو أسامة، حدثني حماد بن زيد. وأخبرنا دَعلَجُ بن أحمد السِّجْزِي، حدثنا بشرٌ بن موسى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا أبو أسامة حمَّادُ بن أسامة، حدثنا حمَّاد بن زيد، عن ثابت، عن أنس، قال: قالت فاطمة: يا أنسُ، أطابت أنفُسُكم أن تَحثُوا الترابَ على رسول الله ﷺ؟! قال: وقالت فاطمة: يا أبَتاه، أجابَ ربًّا دعاه، يا أبَتاه، مِن ربِّه ما أدناه، يا أبَتاه، جَنَّةُ الفِردَوس مأواه، يا أبَتاه، إلى جبريلَ أنْعاه. زاد سعيد بن منصور في حديثه عن أبي أسامة، قال: سمعتُ حمّاد بن زيدٍ يقول: رأيتُ ثابتَ البُنانيَّ حين حدثنا بهذا الحديث بَكَى، حتى رأيت أضلاعَه تضطرب (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے انس! کیا تمہارے دلوں نے یہ گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟!“ راوی کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (اپنے رنج و ملال میں) یہ بھی فرمایا: ”ہائے میرے ابا جان! جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا، ہائے میرے ابا جان! جو اپنے رب کے کتنے قریب ہو گئے، ہائے میرے ابا جان! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے، ہائے میرے ابا جان! میں جبرائیل کو ان کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔“ سعید بن منصور نے اپنی روایت میں ابو اسامہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ میں نے حماد بن زید کو یہ کہتے سنا: میں نے ثابت بنانی کو دیکھا کہ جب وہ ہمیں یہ حدیث سنا رہے تھے تو وہ اس قدر روئے کہ ان کی پسلیاں (ہچکیوں کی وجہ سے) تڑپتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1424]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1424]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1424 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ ثابت سے مراد البنانی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (1630) عن علي بن محمد، عن أبي أسامة حماد بن أسامة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1630) نے علی بن محمد عن ابی اسامہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وزاد بإثره قول حماد بن زيد الذي أشار إليه المصنف.
🔍 فنی نکتہ: ابن ماجہ کی اس روایت کے آخر میں حماد بن زید کا وہ قول بھی ہے جس کا مصنف نے اشارہ کیا۔
وأخرجه دون هذه الزيادة أحمد 20/ (13117) عن يزيد بن هارون، والبخاري (4462) عن سليمان بن حرب، وابن حبان (6622) من طريق إسماعيل بن يونس، ثلاثتهم عن حماد بن زيد، به. ولم يذكروا جميعهم الزيادة التي زادها سعيد بن منصور وعلي بن محمد في حديثهما عن أبي أسامة، وزاد سليمان بن حرب وإسماعيل بن يونس في أوله: لما ثقل النبي ﷺ جعل يتغشّاه، فقالت فاطمة ﵍: واكربَ أباه، فقال لها: "ليس على أبيك كرب بعد اليوم".
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (13117/20)، بخاری (4462) اور ابن حبان نے حماد بن زید کی سند سے روایت کیا، مگر ان میں وہ اضافہ نہیں ہے جو ابو اسامہ کی روایت میں ہے۔ سلیمان بن حرب کی روایت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ "وا کرب اباہ" (ہائے میرے باپ کی تکلیف) اور آپ ﷺ کا جواب "آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی تکلیف نہیں" مذکور ہے۔
وسيأتي برقم (4444).
🔁 تکرار: یہ آگے نمبر (4444) پر آئے گی۔