🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. الْبُكَاءُ عَلَى الْمَيِّتِ
میت پر رونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1423
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أسامة بن زيد، حدثني الزُّهري، عن أنس بن مالك قال: لما رَجَعَ رسولُ الله ﷺ من أُحُد، سَمِعَ نساءَ الأنصار يَبكِين، فقال:"لكنَّ حمزةَ لا بَوَاكيَ له"، فبَلَغ ذلك نساءَ الأنصار، فبَكَين لحمزة، فنام رسولُ الله ﷺ ثم استيقظ وهُنَّ يَبكِين، فقال:"يا وَيحَهُنَّ، ما زِلْنَ يَبكِينَ منذُ اليومِ، فَلْيَبكِينَ (1) ، ولا يَبكِين على هالكٍ بعد اليوم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وهو أشهرُ حديث بالمدينة، فإنَّ نساء المدينة لا يَندُبنَ موتاهُنَّ حتى يَندُبنَ حمزةَ، وإلى يومنا هذا. وقد اتفق الشيخان على إخراج حديث أيوب السَّخْتِياني عن عبد الله بن أبي مُلَيكة؛ مناظرةِ عبد الله بن عمر وعبد الله بن عباس في البكاء على الميِّت، ورُجوعِهما فيه إلى أم المؤمنين عائشة، وقولِها: والله ما قال رسولُ الله ﷺ: إِنَّ الميتَ يُعذَّب ببُكاء أحدٍ، ولكنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الكافر يَزيدُه عند الله بكاءُ أهله عليه عذابًا"، وإنَّ الله هو أَضحَكَ وأبكى، ولا تَزِرُ وازِرةٌ وِزْرَ أخرى (3) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری عورتوں کے رونے کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن حمزہ (رضی اللہ عنہ) کے لیے تو کوئی رونے والا نہیں ہے، جب یہ بات انصاری عورتوں تک پہنچی تو وہ سیدنا حمزہ کے لیے رونے لگیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب بیدار ہوئے تو وہ اب بھی رو رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا برا ہو! یہ تو آج سارا دن ہی روتی رہی ہیں، انہیں چاہیے کہ (اب) رو لیں، لیکن آج کے بعد کسی مرنے والے پر (اس طرح) نہ روئیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ مدینہ میں سب سے زیادہ مشہور حدیث ہے کیونکہ مدینہ کی عورتیں آج تک اپنے مرنے والوں پر بین کرنے سے پہلے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے بین کرتی ہیں۔ اور شیخین نے ایوب سختیانی سے عبداللہ بن ابی ملیکہ کے واسطے سے یہ روایت نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس کے درمیان میت پر رونے کے معاملے میں مناظرہ ہوا، پھر وہ دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف رجوع لائے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مومن کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: بے شک کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیا جاتا ہے، اور بے شک اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے، اور ﴿لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ [سورہ الانعام: 164] [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1423]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1424
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا أبو أسامة، حدثني حماد بن زيد. وأخبرنا دَعلَجُ بن أحمد السِّجْزِي، حدثنا بشرٌ بن موسى، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا أبو أسامة حمَّادُ بن أسامة، حدثنا حمَّاد بن زيد، عن ثابت، عن أنس، قال: قالت فاطمة: يا أنسُ، أطابت أنفُسُكم أن تَحثُوا الترابَ على رسول الله ﷺ؟! قال: وقالت فاطمة: يا أبَتاه، أجابَ ربًّا دعاه، يا أبَتاه، مِن ربِّه ما أدناه، يا أبَتاه، جَنَّةُ الفِردَوس مأواه، يا أبَتاه، إلى جبريلَ أنْعاه. زاد سعيد بن منصور في حديثه عن أبي أسامة، قال: سمعتُ حمّاد بن زيدٍ يقول: رأيتُ ثابتَ البُنانيَّ حين حدثنا بهذا الحديث بَكَى، حتى رأيت أضلاعَه تضطرب (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے انس! کیا تمہارے دلوں نے یہ گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟! راوی کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (اپنے رنج و ملال میں) یہ بھی فرمایا: ہائے میرے ابا جان! جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا، ہائے میرے ابا جان! جو اپنے رب کے کتنے قریب ہو گئے، ہائے میرے ابا جان! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے، ہائے میرے ابا جان! میں جبرائیل کو ان کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ سعید بن منصور نے اپنی روایت میں ابو اسامہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ میں نے حماد بن زید کو یہ کہتے سنا: میں نے ثابت بنانی کو دیکھا کہ جب وہ ہمیں یہ حدیث سنا رہے تھے تو وہ اس قدر روئے کہ ان کی پسلیاں (ہچکیوں کی وجہ سے) تڑپتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1424]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1425
أخبرني أزهر بن أحمد المُنادِي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد الصَّائغ، حدثنا عفَّان بن مُسلِم وأبو الوليد، قالا: حدثنا شعبة. وحدثنا محمد بن موسى الصَّيدلاني، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنى ومحمد بن بشار، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، سمعتُ قتادةَ يحدِّث عن مُطرِّف بن عبد الله بن الشَّخِّير، عن حَكِيم بن قيس بن عاصم، عن أبيه: أنه أوصاهم عند موته فقال: إذا أنا مِتُّ فلا تَنُوحُوا عليَّ، فإنَّ رسول الله ﷺ لم يُنَحْ عليه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقيس بن عاصم المِنْقَري سيِّدُ بني تَميم، وليس له عن رسول الله ﷺ مسندٌ غيرُ هذا الحرف، فإنه أملى وصيّتَه: لا تَنُوحُوا عليَّ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ ينهى عن النَّوح (2) . وشاهد هذا الحديث حديثُ الحسن البصري عن قيس بن عاصم في ذكر وصيَّتِه بطولها. وله شاهدٌ عن أبي هريرة:
حکیم بن قیس بن عاصم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت وصیت کرتے ہوئے فرمایا: جب میں مر جاؤں تو مجھ پر بین نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بین نہیں کیا گیا تھا۔
یہ اسناد صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ قیس بن عاصم منقری بنو تمیم کے سردار ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی مروی مسند روایات میں اس کلام کے سوا کچھ نہیں ہے، انہوں نے اپنی وصیت لکھوائی تھی کہ: مجھ پر بین نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بین کرنے سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حسن بصری کی روایت ہے جس میں قیس بن عاصم کی طویل وصیت کا ذکر ہے، اور اس کی ایک شاہد حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1425]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1426
أخبرَناه [أبو] إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ (3) ، حدثنا السَّرِيُّ ابن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرةَ قال: لما مات إبراهيمُ ابنُ رسول الله ﷺ صاح أسامةُ بن زيدٍ، فقال رسول الله ﷺ:"ليس هذا منّي، وليس بصائحٍ حقٌّ، القلبُ يَحزَنُ، والعينُ تَدمَعُ، ولا نُغضِبُ الربَّ" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ چیخ پڑے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (چیخنا) مجھ سے نہیں ہے، اور چیخ کر رونے والے کا کوئی حق نہیں ہے، دل تو غمزدہ ہوتا ہے اور آنکھ آنسو بہاتی ہے، لیکن ہم (زبان سے) کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1426]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1427
حدَّثَناه أبو إسحاق المزكِّي إملاءً، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا عُقْبة بن سِنَان البَصريُّ، حدثنا عثمان بن عثمان الغَطَفاني، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، قال: قال أبو هريرة: إذا أنا مِتُّ فلا تَنُوحوا عليَّ، فإنَّ رسول الله ﷺ لم يُنَحْ عليه (2) . هذه الزيادة عن أبي هريرة غريبةٌ جدًّا، إلّا أن عثمان الغَطَفانيَّ ليس من شرط كتابنا هذا (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب میں مر جاؤں تو مجھ پر بین نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی بین نہیں کیا گیا تھا۔
سیدنا ابوہریرہ سے مروی یہ اضافہ نہایت غریب ہے، اور عثمان غطفانی ہماری اس کتاب کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1427]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1428
حدثنا أبو الفضل محمد بن أحمد الحاكم الوزير إملاءً، حدثنا حماد بن أحمد القاضي ومحمد بن حَمْدَوَيهِ السِّنْجي، قالا: حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا شَرِيك وعليُّ بن مُسْهِر، قالا: حدثنا أبو إسحاق الهَجَري، عن عبد الله بن أبي أَوفى، قال: كان رسول الله ﷺ يَنْهَى عن المَرَاثي (1) . إبراهيم بن مسلم الهَجَري ليس بالمتروك، إلّا أنَّ الشيخين لم يحتجَّا به. وهذا الحديث شاهدٌ لما تقدَّمَه، وهو غريبٌ صحيح، فإن مسلمًا قد احتجَّ بشَرِيك بن عبد الله.
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرثیہ خوانی (مردے کی یاد میں بین و پکار والے اشعار) سے منع فرمایا کرتے تھے۔
ابراہیم بن مسلم ہجری متروک راوی نہیں ہیں، اگرچہ شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا۔ یہ حدیث سابقہ روایات کے لیے شاہد ہے، اور یہ غریب صحیح ہے کیونکہ امام مسلم نے شریک بن عبداللہ سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1428]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1429
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلَّام، عن أبي سَلَّام قال: قال أبو مالكٍ الأشعريُّ: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ في أُمّتي أربعًا (2) من أَمْر الجاهلية ليسوا بتارِكيهِنَّ: الفَخْرُ في الأحساب، والطَّعْنُ في الأنساب، والاستسقاءُ بالنُّجوم، والنِّياحةُ على الميت، فإنَّ النائحة إن لم تَتُبْ قبل أن تموت، فإنها تقومُ يومَ القيامة عليها سَرَابيلُ من قَطِرانٍ، ثم يُغلَى عليهِنَّ دُروعٌ من لَهَبِ النار" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرج مسلمٌ حديث أبان بن يزيد (1) عن يحيى بن أبي كَثِير، وهو مختصَرٌ، ولم يُخرجاه بالزيادات التي في حديث علي بن المبارك، وهو من شرطهما (2) .
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں چار چیزیں جاہلیت کے کاموں میں سے ہیں جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے: حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسروں کے نسب پر طعنہ زنی کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور مردے پر بین کرنا، اور بین کرنے والی عورت اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں کھڑی ہو گی کہ اس پر گندھک کا کرتہ ہوگا اور اس کے اوپر آگ کے شعلوں کی بنی ہوئی قمیص پہنائی جائے گی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام مسلم نے ابان بن یزید کی یحییٰ بن ابی کثیر سے مختصر روایت نقل کی ہے لیکن ان اضافات کے ساتھ اسے شیخین نے روایت نہیں کیا جو علی بن مبارک کی حدیث میں ہیں، حالانکہ وہ ان دونوں کی شرط پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1429]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں