المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. زكاة البهائم والحب .
جانوروں اور اناج کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1448
أخبرناه أبو قُتيبةَ سَلْم بن الفَضْل الأَدَمي بمكة، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا زهير بن حَرْب، حدثنا محمد بن بَكْر، عن ابن جُرَيج، عن عِمْران بن أبي أَنس، عن مالك بن أوس بن الحَدَثان، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"في الإبل صَدَقتُها، وفي الغنم صَدَقتُها، وفي البَزِّ صَدَقتُه" (1) . كلا الإسنادين صحيحان (2) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اونٹوں میں ان کا صدقہ ہے، بھیڑ بکریوں میں ان کا صدقہ ہے اور گندم میں اس کا صدقہ ہے۔ ٭٭ مذکورہ دونوں اسنادیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1448]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1448 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ ابن جريج - وهو عبد الملك بن عبد العزيز - مدلس وقد عنعنه، بل صرَّح بأنه لم يسمعه من عمران عند أحمد في "المسند" 35/ (21557)، وكذلك قال البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "العلل الكبير": ابن جريج لم يسمع من عمران بن أبي أنس، يقول: حُدِّثتُ عن عمران بن أبي أنس. وقال الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 14/ 181: فكأن ابن جريج دلَّسه عن موسى بن عبيدة، فالحديث حديثه، ومداره عليه، وهو ضعيف.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) ابن جریج کے عنعنہ اور انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے؛ ابن جریج نے خود اعتراف کیا کہ انہوں نے اسے عمران سے نہیں سنا بلکہ انہیں یہ روایت پہنچی ہے۔ حافظ ابن حجر کے مطابق یہ دراصل موسیٰ بن عبیدہ ہی کی روایت ہے۔
وأخرجه أحمد 35/ (21557)، وأخرجه الترمذي في "العلل الكبير" (171) عن يحيى بن موسى، كلاهما (أحمد ويحيى) عن محمد بن بكر البرساني، بهذا الإسناد. وقد صرَّح ابن جريج عند أحمد أنه بلغه عنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (21557/35) اور ترمذی نے محمد بن بکر البرسانی کی سند سے روایت کیا ہے جہاں ابن جریج نے سماع کی نفی کی ہے۔