🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. قصة أبى رغال المصدق
ابو رغال عاملِ زکوٰۃ کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1466
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، حدثني هشام بن سعد، عن عباس بن عبد الله بن مَعبَد بن عباس، عن عاصم بن عمر بن قَتادة الأنصاري، عن قيس بن سعد بن عُبادة الأنصاري: أنَّ رسولَ الله ﷺ بَعَثَه ساعيًا، فقال أبوه: لا تَخرُجْ حتى تُحدِثَ برسول الله ﷺ عهدًا، فلما أراد الخروج أتى رسولَ الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"يا قَيسُ، لا تأتي يومَ القيامة على رَقَبَتك بعيرٌ له رُغاءٌ، أو بقرةٌ لها خُوَارٌ، أو شاةٌ لها يُعَار، ولا تكن كأبي رُغَال" فقال سعد: وما أبو رُغال؟ قال:"مُصَدِّقٌ بعثَه صالحٌ، فوجد رجلًا بالطائف في غُنَيمةٍ قريبةٍ من المئة شِصَاصٍ إلّا شاةً واحدة، وابنٌ صغيرٌ لا أُمَّ له، فلَبَنُ تلك الشاة عِيشتُه، فقال صاحب الغنم: من أنت؟ فقال: أنا رسولُ رسولِ الله ﷺ فرحَّب وقال: هذه غَنَمي، فخُذْ أيَّما أحببتَ، فنظر إلى الشاة اللَّبون فقال: هذه، فقال الرجل: هذا الغلامُ كما ترى ليس له طعامٌ ولا شرابٌ غيرُها، فقال: إن كنتَ تحبُّ اللبن فأنا أحبُّه، فقال: خذ شاتين مكانها، فأَبى، فلم يزل يزيدُه ويبذلُ حتى بَذَلَ له خمسَ شياه شِصاصٍ مكانَها، فأَبى عليه، فلمّا رأى ذلك عَمَدَ إلى قوسه فرَمَاه فقتله، فقال: ما ينبغي لأحدٍ أن يأتي رسولَ الله ﷺ بهذا الخبر أحدٌ قبلي، فأتى صاحبُ الغنم صالح النبيَّ ﷺ فأخبره، فقال صالح: اللهم العَنْ أبا رُغالٍ، اللهم العَنْ أبا رُغال"، فقال سعد بن عُبادة: يا رسول الله، اعفُ قيسًا من السِّعاية (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ مختصرٌ على شرط الشيخين:
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زکوۃ اور صدقات وغیرہ جمع کرنے کی ذمہ داری دے کر بھیجا تو ان کے والد نے کہا: جاتے ہوئے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر کے روانہ ہونا، انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: اے قیس! قیامت کے دن تم اس حال میں نہ آنا کہ تیری گردن پر اونٹ سوار ہوں اور وہ آوازیں نکال رہے ہوں یا تمہاری گردن پر گائے سوار ہو اور وہ آوازیں نکال رہی ہو یا کوئی بکری سوار ہو جو منمنا رہی ہو اور تم ابورغال کی طرح نہ ہو جانا۔ سعد نے پوچھا: ابورغال کون ہے؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ایک زکوۃ وصول کرنے والا تھا جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ وغیرہ جمع کرنے کے لیے بھیجا تھا، اس نے طائف میں ایک شخص کو پایا جس کے پاس 100 کے قریب خشک دودھ والی بکریاں تھیں۔ صرف ایک بکری دودھ والی تھی اور اس (چرواہے) کا ایک چھوٹا بچہ بھی تھا، جس کی ماں نہیں تھی اور اس بچے کا کھانا پینا صرف بکری کا دودھ تھا، بکریوں کے مالک نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں اللہ کے رسول سیدنا صالح علیہ السلام کا سفیر ہوں۔ اس نے خوش آمدید کہا: اور عرض کی: یہ میرا ریوڑ ہے، اس میں سے جو جانور آپ کو پسند ہے، وہ لے لیں۔ اس نے دودھ والی بکری کو پسند کر لیا۔ وہ شخص بولا: یہ ایک بچہ ہے جیسا کہ آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ اس بکری کے دودھ کے سوا اس کی کوئی خوراک نہیں ہے۔ اس نے کہا: اگر تمہیں دودھ پسند ہے تو مجھے بھی پسند ہے، اس نے جواب دیا: آپ اس بکری کی بجائے مجھ سے دو بکریاں لے لیں، وہ مسلسل انکار کرتا رہا اور یہ اس کے لیے بکریاں بڑھاتا رہا حتیٰ کہ اس نے اس بکری کے عوض پانچ بکریاں دینے کی پیشکش کر دی (وہ اس پر بھی راضی نہ ہوا)، جب اس (ریوڑ کے مالک) نے اس کی ضد دیکھی تو اپنے ترکش سے تیر نکالا اور اس کو مار کر قتل کر دیا۔ پھر اس نے سوچا کہ کوئی شخص یہ خبر مجھ سے پہلے اللہ کے رسول سیدنا صالح علیہ السلام تک نہ پہنچائے اس لیے وہ بکریوں کا مالک اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کے پاس آیا اور یہ خبر سنائی تو سیدنا صالح علیہ السلام نے یوں دعا مانگی اے اللہ! ابورغال پر لعنت فرما، اے اللہ! ابورغال پر لعنت فرما اس پر سعد بن عبادہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیس کو معاف فرما دیجیے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک مختصر شاہد حدیث ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1466]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1466 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، قال الذهبي في "تلخيص المستدرك": عاصم لم يدرك قيسًا. الليث: هو ابن سعد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: امام ذہبی "تلخیص المستدرک" میں فرماتے ہیں: عاصم نے قیس (بن ابی حازم) کو نہیں پایا۔ 👤 راوی پر جرح: لیث سے مراد لیث بن سعد ہیں۔
وأخرجه البيهقي 4/ 157 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (4/ 157) نے ابو عبداللہ الحاکم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (2272) عن محمد بن عمر بن تمام المصري، عن يحيى بن بكير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ (2272) نے محمد بن عمر بن تمام المصری کے واسطے سے یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن زنجويه في "الأموال" (1553) عن عبد الله بن صالح، عن الليث، عن هشام بن سعد، عن عباس بن عبد الله، عن عاصم بن عمر قال: بعث رسولُ الله ﷺ … فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن زنجویہ نے "الاموال" (1553) میں عبداللہ بن صالح عن لیث عن ہشام بن سعد عن عباس بن عبداللہ عن عاصم بن عمر کے طریق سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بھیجا... (مکمل حدیث)۔
والرُّغاء: صوت الإبل، والخُوار: صوت البقر، واليُعار: صوت المعز.
📌 اہم نکتہ: "رُغاء" اونٹ کی آواز کو، "خُوار" گائے کی آواز کو اور "یُعار" بکری کی آواز کو کہتے ہیں۔
وقوله: "شِصاص" بكسر السين، جمع شَصُوص: وهي قليلة اللبن.
📌 اہم نکتہ: "شِصاص" (شین کے زیر کے ساتھ) یہ "شَصُوص" کی جمع ہے، اس سے مراد وہ جانور ہے جس کا دودھ کم ہو۔