🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. قصة أبى رغال المصدق
ابو رغال عاملِ زکوٰۃ کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1468
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زُرَارة، عن عُمَارة بن عمرو بن حَزْم، عن أُبي بن كعبٍ قال: بَعَثَني النبيُّ ﷺ مصَدِّقًا، فمررتُ برجل، فجَمَع لي ماله، لم أجِدْ عليه فيها إلّا ابنةَ مَخاضٍ، فقلت له: أَدِّ ابنةَ مخاضٍ، فإنها صدقتُك، فقال: ذاك ما لا لَبَنَ فيه ولا ظهرَ، ولكن هذه ناقةٌ عظيمةٌ سمينةٌ فخذها، فقلت له: ما أنا بآخِذٍ ما لم أُؤمَرْ به، وهذا رسول الله ﷺ منكَ قريب، فإن أحببتَ أن تأتيَه فتَعرِضَ عليه ما عرضتَ عليَّ، فافعل، فإن قَبِلَه منك قبلتُه، وإن ردَّه عليك رددتُه، قال: فإني فاعل. قال: فخَرَجَ معي وخَرَجَ بالناقة التي عَرَضَ عليَّ، حتى قَدِمْنا على رسول الله ﷺ، فقال: يا نبيَّ الله، أتاني رسولُك ليأخذَ من صَدَقةِ مالي، وايمُ اللهِ ما قام في مالي رسولُ الله ﷺ، ولا رسولُه قطُّ قبلَه، فجَمعتُ له مالي، فزعم أنَّ ما عَليَّ فيه ابنةُ مخاضٍ، وذلك ما لا لَبَنَ فيه ولا ظهرَ، وقد عرضتُ عليه ناقةً عظيمةً ليأخذها فأَبى عَليَّ، وها هي ذِه قد جئتُك بها يا رسول الله، خُذْها، فقال له رسول الله ﷺ:"ذلك الذي عليك، فإن تطوعتَ بخيرٍ أجَرَكَ الله فيه، وقَبِلْناه منك"، قال: فها هي ذِه يا رسول الله، قد جئتُك بها فخذها، قال: فأمَرَ رسول الله ﷺ، بقَبْضِها، ودعا في مالِه بالبَرَكة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصدق (زکوۃ و صدقات وصول کرنے والا) بنا کر بھیجا۔ میں ایک شخص کے پاس گیا، اس نے سارا مال میرے سامنے جمع کر دیا۔ اُس کے اس تمام مال پر ایک سال اونٹنی زکوۃ بنتی تھی۔ میں نے اس سے کہا: ایک یکسالہ اونٹنی ادا کر دو کیونکہ تیری زکوۃ یہی بنتی ہے۔ اس نے جواباً کہا: اس میں نہ دودھ ہے نہ گوشت جبکہ یہ بڑی اور موٹی تازی اونٹنی ہے، آپ یہ لے لیں۔ (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھے جس کا حکم نہیں دیا گیا ہے، وہ میں نہیں لے سکتا۔ البتہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے قریب ہی ہیں، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اُن کی بارگاہ میں حاضر ہو کر یہی صورتِ حال بیان کر دیں، اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم سے یہ اونٹنی قبول کر لیں تو مجھے بھی منظور ہے، لیکن اگر حضور علیہ السلام قبول نہ کریں تو پھر میں بھی اس بات پر راضی نہیں ہوں۔ اس نے کہا (ٹھیک ہے) میں ایسے کرتا ہوں۔ (سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: وہ میرے ہمراہ چل دیا اور ساتھ ہی وہ اونٹنی بھی لے لی جو اس نے مجھے پیش کی تھی۔ ہم (چلتے چلتے) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس آپ کا یہ سفیر میرے مال کی زکوۃ وصول کرنے آیا تھا۔ خدا کی قسم! اس سے قبل نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور نہ ہی ان کا کوئی سفیر میرے مال میں تشریف لائے ہیں۔ میں نے سارا مال اس کے سامنے جمع کر دیا اور یہ سمجھتے ہیں کہ میرے اس تمام مال میں میرے ذمہ صرف یکسالہ اونٹنی زکوۃ ہے۔ اور اس میں نہ دودھ ہے نہ گوشت۔ جبکہ میں نے ان کو بہترین اونٹنی پیش کی ہے لیکن یہ انکار کر رہے ہیں، وہ اونٹنی یہ ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کو اپنے ساتھ ہی آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کو قبول فرما لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تیرے ذمہ واجب تو وہی (یکسالہ اونٹنی) تھی لیکن اگر تم اپنی خوشی سے اس سے اچھی چیز پیش کر رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ اور ہم نے تم سے یہ (اونٹنی قبول کی۔ اس نے کہا: لیجیے! یہ ہے وہ اونٹنی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹنی وصول کر لینے کی اجازت عطا فرمائی اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1468]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1468 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. يعقوب بن إبراهيم: هو ابن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف. وهو في "مسند أحمد" 35/ (21279).
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ 👤 راوی پر جرح: یعقوب بن ابراہیم سے مراد ابن سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (35/ 21279) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (1583) عن محمد بن منصور، عن يعقوب بن إبراهيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1583) نے محمد بن منصور کے واسطے سے یعقوب بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" (21280)، وابن حبان (3269) من طريقين عن محمد بن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے "المسند" پر اپنے اضافات (21280) میں اور ابن حبان (3269) نے محمد بن اسحاق کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔