المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. لا يدخل صاحب مكس الجنة
ناجائز محصول (مکس) لینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 1486
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا عمرو بن خالد الحَرَّاني، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد (1) بن أبي أُنيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني، عن علي بن الحسين، قال: حدثتنا أمُّ سلمة: أنَّ النبي ﷺ بينما هو في بيتها، وعنده رجالٌ من أصحابه يَتحدَّثون، إذ جاء رجلٌ فقال: يا رسول الله، كم صدقةُ كذا وكذا من التمر؟ قال رسول الله ﷺ:"كذا وكذا" فقال الرجل: إنَّ فلانًا تعدّى عليَّ فأخذ منِّي كذا وكذا، فازداد صاعًا، فقال رسول الله ﷺ:"فكيف إذا سَعَى عليكم مَن يَتعدَّى عليكم أشدَّ من هذا التّعدِّي؟" فخاض الناسُ وبَهَرَ الحديثُ، حتى قال رجلٌ منهم: يا رسولَ الله، إن كان رجلًا غائبًا عنك في إبلِه وماشيتِه وزَرْعِه، فأدَّى زكاةَ مالِه فتُعُدِّيَ عليه الحقَّ، فكيف يَصنَعُ وهو غائب؟ فقال رسول الله ﷺ:"مَن أدّى زكاةَ مالِه طيِّبَ النفسِ بها، يريدُ به وَجْهَ الله والدارَ الآخرة، لم يُغيِّب شيئًا من ماله، وأقام الصلاةَ، وأدّى الزكاةَ، فتُعُدِّي عليه الحقِّ، فأَخَذ سلاحَه فقاتَلَ فقُتل، فهو شهيد" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ولم يُخرجاه.
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ام المومنین سیدنا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے اور آپ کے پاس کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجوروں کی زکوۃ کے متعلق تفصیل پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھجوروں کے متعلق اس کے مطلوبہ نصاب کے مطابق زکوۃ بتائی۔ اس نے کہا: فلاں شخص نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے مجھ سے ایک صاع زیادہ زکوۃ لی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوۃ کی مکمل تفصیلات بتا دینے کے باوجود کسی شخص کو تمہارے اوپر اس طرح کی زیادتی کا موقع مل جانا، اس زیادتی سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں گفت و شنید اور بحث و تمحیص شروع ہو گئی۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی شخص آپ سے دور اپنے مال مویشی اور زراعت میں مشغول ہو لیکن وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہو۔ پھر بھی کوئی حق کے نام پر اس کے ساتھ زیادتی کرے (اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکوۃ برضا و خوشی اللہ کی رضا اور آخرت کے لیے ادا کرے اور وہ اپنے مال میں سے کوئی چیز نہ چھپائے۔ اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔ اس پر کوئی شخص حق کے نام پر زیادتی کرے اور وہ اپنا ہتھیار پکڑ کر لڑائی شروع کر دے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1486]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1486 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يزيد.
📝 توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام غلطی سے "یزید" ہو گیا ہے۔