المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ
ناجائز محصول (مکس) لینے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 1485
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، عن عُقْبة بن عامر قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يَدخُلُ صاحبُ مَكْسٍ الجنةَ". قال يزيد بن هارون: يعني العَشَّار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صاحب مکس جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ یزیدین بن ہارون فرماتے ہیں: (صاحب مکس سے مراد) عشار (یعنی عُشر وصول کرنے والا) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1485]
حدیث نمبر: 1486
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا عمرو بن خالد الحَرَّاني، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن زيد (1) بن أبي أُنيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني، عن علي بن الحسين، قال: حدثتنا أمُّ سلمة: أنَّ النبي ﷺ بينما هو في بيتها، وعنده رجالٌ من أصحابه يَتحدَّثون، إذ جاء رجلٌ فقال: يا رسول الله، كم صدقةُ كذا وكذا من التمر؟ قال رسول الله ﷺ:"كذا وكذا" فقال الرجل: إنَّ فلانًا تعدّى عليَّ فأخذ منِّي كذا وكذا، فازداد صاعًا، فقال رسول الله ﷺ:"فكيف إذا سَعَى عليكم مَن يَتعدَّى عليكم أشدَّ من هذا التّعدِّي؟" فخاض الناسُ وبَهَرَ الحديثُ، حتى قال رجلٌ منهم: يا رسولَ الله، إن كان رجلًا غائبًا عنك في إبلِه وماشيتِه وزَرْعِه، فأدَّى زكاةَ مالِه فتُعُدِّيَ عليه الحقَّ، فكيف يَصنَعُ وهو غائب؟ فقال رسول الله ﷺ:"مَن أدّى زكاةَ مالِه طيِّبَ النفسِ بها، يريدُ به وَجْهَ الله والدارَ الآخرة، لم يُغيِّب شيئًا من ماله، وأقام الصلاةَ، وأدّى الزكاةَ، فتُعُدِّي عليه الحقِّ، فأَخَذ سلاحَه فقاتَلَ فقُتل، فهو شهيد" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ولم يُخرجاه.
سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ام المومنین سیدنا اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے اور آپ کے پاس کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجوروں کی زکوۃ کے متعلق تفصیل پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھجوروں کے متعلق اس کے مطلوبہ نصاب کے مطابق زکوۃ بتائی۔ اس نے کہا: فلاں شخص نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے مجھ سے ایک صاع زیادہ زکوۃ لی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکوۃ کی مکمل تفصیلات بتا دینے کے باوجود کسی شخص کو تمہارے اوپر اس طرح کی زیادتی کا موقع مل جانا، اس زیادتی سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں گفت و شنید اور بحث و تمحیص شروع ہو گئی۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی شخص آپ سے دور اپنے مال مویشی اور زراعت میں مشغول ہو لیکن وہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہو۔ پھر بھی کوئی حق کے نام پر اس کے ساتھ زیادتی کرے (اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکوۃ برضا و خوشی اللہ کی رضا اور آخرت کے لیے ادا کرے اور وہ اپنے مال میں سے کوئی چیز نہ چھپائے۔ اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔ اس پر کوئی شخص حق کے نام پر زیادتی کرے اور وہ اپنا ہتھیار پکڑ کر لڑائی شروع کر دے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1486]
حدیث نمبر: 1487
أخبرنا أبو إسحاق بن فراس الفقيه بمكة، حدثنا بكر بن سَهْل الدِّمْياطي، حدثنا شعيب بن يحيى التُّجِيبي، حدثنا الليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبيه: أنه لمَّا كان عامُ الرَّمادة، وأجْدَبَتِ الأرض، كَتَبَ عمر بنُ الخطاب إلى عمرو بن العاص: مِن عبد الله عمرَ أميرِ المؤمنين إلى العاصي ابن العاص، لعَمْري (2) ما تُبالي إذا سَمِنْتَ ومَن قِبَلَكَ أن أَعْجَفَ ومَن قِبَلي، ويا غَوْثاه، فكتب عمرو: السلام، أما بعدُ: لبَّيك لبَّيك، أتتك عِيرٌ أولُها عندك وآخرُها عندي، مع أني أرجو أن أجد سبيلًا أن أحمِلَ في البحر، فلمَّا قَدِمَ أولُ عِيرٍ دعا الزُّبيرَ فقال: اخرُجْ في أول هذه العِير، فاستقبِلْ بها نجدًا (3) ، فاحمِلْ إليَّ كلَّ أهل بيتٍ قَدَرتَ أن تَحمِلَهم إليَّ، ومَن لم تستطع حَمْلَه فمُرْ لكلِّ أهل بيتٍ ببعيرٍ بما عليه، ومُرْهُم فليَلْبَسوا اللِّباسَ كِساءَيْنِ (4) ، وليَنحَروا البعيرَ فيَجْمُلوا شَحْمَه، وليُقدِّدوا لحمَه، وليَحتَذُوا جِلدَه، ثم ليأخُذُوا كُبَّةً من قَدِيدٍ وكُبَّةً من شَحْمٍ وحَفْنَةً من دقيق فيَطبُخوا (1) ، وليأكُلوا حتى يأتيهم الله برِزْق، فأَبى الزُّبير أن يَخرُج، فقال: أما والله لا تجدُ مثلَها حتى تخرج من الدنيا، ثم دعا آخَرَ أظنُّه طلحة، فأبى، ثم دعا أبا عُبيدةَ بن الجرَّاح، فخَرَج في ذلك، فلمَّا رَجَعَ بَعَثَ إليه بألف دينار، فقال أبو عبيدة: إني لم أعمَلْ لك يا ابنَ الخطاب، إنما عَمِلتُ لله، ولستُ آخُذُ في ذلك شيئًا، فقال عمر: قد أعطانا رسولُ الله ﷺ في أشياءَ بَعَثَنا فيها فكَرِهْنا، فأَبى ذلك علينا رسولُ الله ﷺ، فاقبَلْها أيها الرجل، فاستَعِنْ بها على دُنياكَ، فقَبِلَها أبو عبيدةَ بن الجرَّاح (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: جب زمینیں خشک ہو گئیں اور قحط کا سال آیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھا (جس کا درجِ ذیل مضمون تھا)۔ اللہ کے بندے عمر امیرالمومنین کی طرف سے عمرو بن عاص کی طرف: مجھے میرے عاملین نے وہ صورتِ حال بتائی ہے جو تم نے خوشحالی کے موسم میں اہتمام کیا ہے اور آج کل یہاں ہمارے ہاں سخت قحط ہے، اس لیے اپنے دارالخلافہ کی مدد کرو۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا: السلام علیک۔ امام بعد میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ آپ کے پاس قافلہ پہنچ جائے گا۔ جس کا اگلا سرا آپ کے پاس اور آخری سرا میرے پاس ہو گا۔ ساتھ میں یہ امید بھی رکھتا ہوں کہ مجھے دو راستے مل جائیں گے اور میں دریا کے راستے سے آؤں گا۔ جب پہلا قافلہ پہنچا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اس پہلے قافلے (کے سامان) کو کھول لو اور کل اس کو لے جاؤ۔ اور جتنے لوگوں تک یہ پہنچا سکتے ہو پہنچا دو۔ اور جن کو تم نہ پہنچا سکو تو ہر گھر والے کے لیے ایک اونٹ مع سازوسامان کے الگ کر کے رکھ دو اور ان کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو لباس پہنائے جیسے ہی آتے رہیں اور وہ اونٹوں کو ذبح کرے اور اس کے بالوں کو اٹھائے اور ان کے گوشت کو کاٹ کے خشک کر لیں اور ان کی کھال کے جوتے بنا لیں۔ پھر وہ ایک ڈھیر گوشت کے ٹکڑوں کا بنا لے اور ایک چربی کا پھر وہ پکائیں اور کھائیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رزق کے دروازے کھول دے۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں نکلنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ساری زندگی اس جیسا عمل نہیں پا سکتے۔ پھر انہوں نے ایک دوسرے آدمی کو بلایا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ آپ نے ابوعبیدہ بن جرح رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے اس کام کی ذمہ داری لے لی، جب وہ لوٹ کر آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک ہزار دینار بھیجے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن خطاب (رضی اللہ عنہ)! میں نے یہ کام آپ کے لیے نہیں کیا بلکہ میں نے تو یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔ اس لیے میں آپ سے کوئی چیز نہیں لوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ اسی طرح کام کرنے پر انعام عطا فرمایا، ہم نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی نہ لگی۔ اس لیے اے شخص! آگے آؤ اور یہ لے لو اور اس کے ذریعے اپنی دنیا بہتر کرو۔ تب سیدنا ابوعبیدہ بن جراح نے وہ ایک ہزار دینار قبول کر لیے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1487]
حدیث نمبر: 1488
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حسين المُعلِّم، عن عبد الله بن بُريدةَ، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"من استَعمَلْناه على عَمَلٍ فرَزَقْناه رِزقًا، فما أخَذَ بعد ذلك فهو غُلول" (3) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کو ہم کسی کام پر مقرر کریں اور اس کا کچھ معاوضہ بھی دے دیں تو اس کے علاوہ وہ جو کچھ لے گا، خیانت شمار ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1488]
حدیث نمبر: 1489
أخبرني أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا الحسين بن إدريسَ الأنصاريُّ، حدثنا محمد بن عبد الله بن عمّار المَوْصِلي، حدثنا المُعافَى بن عِمْران، عن الأوزاعي، حدثنا الحارث بن يزيد، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن المُستورِد بن شدَّاد قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"من كان لنا عاملًا فليكتسِبْ زوجةً، وإن لم يكن له خادمٌ فليكتسِبْ خادمًا، ومن لم يكن له مَسكنٌ فليكتسِبْ مسكنًا". قال (1) : وأُخبِرتُ أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن اتخذ غيرَ ذلك فهو غالٌّ أو سارق" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ” جو شخص ہمارا ملازم ہو، وہ شادی کرا سکتا ہے، اگر اس کا کوئی خادم نہ ہو تو خادم رکھ سکتا ہے۔ اور جس کا مکان نہ ہو مکان بنا سکتا ہے “۔ مستورد فرماتے ہیں: اور مجھے یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس کے علاوہ کچھ لے گا، وہ خائن یا چور ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1489]