المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. إن صدقة الفطر حق واجب
صدقۂ فطر ایک لازم اور واجب حق ہے۔
حدیث نمبر: 1515
حدَّثَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا محمد بن نُعَيم، حدثنا عبَّاد بن الوليد الغُبَري، حدثنا عبّاد بن زكريا، حدثنا سليمان بن أرقَم، عن الزُّهري، عن قَبِيصةَ بن ذُؤيب، عن زيد بن ثابت قال: خَطَبَنا رسولُ الله ﷺ فقال:"مَن كان عندَه طعامٌ فليتصدَّقْ بصاعٍ من بُرٍّ، أو صاعٍ من شعيرٍ، أو صاعٍ من تمرٍ، أو صاعٍ من دقيقٍ، أو صاعٍ من زَبيب، أو صاعٍ من سُلْت" (1) .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس شخص کے پاس طعام ہو، اس کو چاہیے کہ ایک صاع گندم یا ایک صاع جو یا ایک صاع آٹا یا ایک صاع منقع یا ایک صاع پنیر صدقہ دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1515]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1515 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا، سليمان بن أرقم مجمع على ضعفه، وعبَّاد بن زكريا - وهو الصُّرَيمي - مجهول لا يُعرف، قال الدارقطني: لم يروه بهذا الإسناد وهذه الألفاظ غير سليمان بن أرقم، وهو متروك الحديث. أبو الوليد الفقيه: هو حسان بن محمد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند سخت ضعیف ہے۔ 👤 راوی پر جرح: سلیمان بن ارقم کے ضعف پر اتفاق ہے اور عباد بن زکریا الصریمی مجہول ہے۔ دارقطنی کے مطابق سلیمان بن ارقم ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں منفرد ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2117) عن أحمد بن العباس البغوي، عن عباد بن الوليد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2117) نے احمد بن العباس البغوی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔