المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. حكم من سأل بالله واستعاذ بالله
جو اللہ کا واسطہ دے یا اللہ کی پناہ مانگے اس کے بارے میں حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1519
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الأحوَص بن جَوَّاب، عن عمّار بن رُزَيق، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر قال: قال رسولُ الله ﷺ:"من سألكم بالله فأَعطُوه، ومن استعاذَكُم بالله فأعِيذُوه، ومن دَعاكُم فأجِيبُوه، ومن أَهدَى إليكم فكافِئُوه، فإن لم تَجِدوا ما تُكافئونَه، فادْعُوا له حتى تَرَونَ أن قد كافأْتُموه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين؛ فقد تابع عمَّارَ بن رُزَيق على إقامة هذا الإسناد: أبو عَوَانة وجَرِير بن عبد الحميد وعبد العزيز بن مُسلِم القَسْمَلي عن الأعمش. أما حديث أبي عَوانة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين؛ فقد تابع عمَّارَ بن رُزَيق على إقامة هذا الإسناد: أبو عَوَانة وجَرِير بن عبد الحميد وعبد العزيز بن مُسلِم القَسْمَلي عن الأعمش. أما حديث أبي عَوانة
سیدنا (عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تم سے اللہ کے نام پر مانگے، تم اس کو عطا کرو، اور جو تم سے اللہ کے نام پر پناہ مانگے تم اس کو پناہ دے دو، اور جو تمہیں دعوت دے تم اس کی دعوت کو قبول کرو اور جو تمہیں تحفہ دے تو تم بھی بدلے میں اس کو تحفہ دو اور اگر تحفہ دینے کی استطاعت نہ ہو تو اس کے لیے اس قدر دعائیں کرو کہ تم خود سمجھو کہ تم نے اس کے تحفہ کا بدلہ دے دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی سند قائم کرتے ہوئے اعمش سے روایت کرنے میں ابوعوانہ، جریر بن عبدالحمید اور عبدالعزیز بن مسلم القسملی نے عمار بن زریق کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1519]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1519 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل الأحوص بن جَوَّاب وشيخه عمار بن رُزَيق، وهما متابَعان.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور احوص بن جواب اور عمار بن رزیق کی وجہ سے سند قوی ہے کیونکہ ان کی تائید موجود ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3260) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (3260) میں حاکم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5703) من طريق ليث بن أبي سليم، عن مجاهد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9/ 5703) نے لیث بن ابی سلیم عن مجاہد کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) إسناده صحيح. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو عوانہ سے مراد الوضاح بن عبد اللہ الیشکری ہیں۔
وأخرجه أحمد 9/ (5365) و 10/ (6106)، وأبو داود (5109)، والنسائي (2359) من طرق عن أبي عوانة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابو داود (5109) اور نسائی (2359) نے ابو عوانہ کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق سريج بن النعمان عن أبي عوانة برقم (2400).
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے سریج بن النعمان عن ابی عوانہ کے طریق سے حدیث نمبر (2400) پر آئے گی۔
(2) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: جریر سے مراد ابن عبد الحمید ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1672) و (5109)، وابن حبان (3408) من طريق عثمان بن أبي شيبة، عن جرير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1672) اور ابن حبان (3408) نے عثمان بن ابی شیبہ عن جریر کی سند سے روایت کیا ہے۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن أبي شريح في "الأحاديث المئة الشريحية" (41) من طريق بشر بن موسى، عن أبي زكريا، عن عبد العزيز بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شریح نے "الاحادیث المئہ" (41) میں بشر بن موسیٰ عن ابی زکریا کی سند سے روایت کیا ہے۔
(4) أخرجه من هذه الطريق ابن حبان (3375) و (3409)، وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3375، 3409) نے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
ابوعوانہ کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1519M1]
جریر بن عبدالحمید کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1519M2]
عبدالعزیز بن مسلم کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ یہ وہ احادیث ہیں جن کی اسناد کے صحیح ہونے پر اتفاق ہے۔ اور ان کو محمد بن ابوعبیدہ بن معن کی اس روایت کی وجہ سے معلل نہیں کہہ سکتے جو انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے اعمش کے ذریعے ابراہیم التیمی کے حوالے سے مجاہد سے روایت کی ہے۔ اور اعمش کے پاس اس حدیث کی ایک اور سند بھی ہے اور وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ یہ حدیث اعمش کی دوسری سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1519M3]