🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. حُكْمُ مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ وَاسْتَعَاذَ بِاللَّهِ
جو اللہ کا واسطہ دے یا اللہ کی پناہ مانگے اس کے بارے میں حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1519
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الأحوَص بن جَوَّاب، عن عمّار بن رُزَيق، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر قال: قال رسولُ الله ﷺ:"من سألكم بالله فأَعطُوه، ومن استعاذَكُم بالله فأعِيذُوه، ومن دَعاكُم فأجِيبُوه، ومن أَهدَى إليكم فكافِئُوه، فإن لم تَجِدوا ما تُكافئونَه، فادْعُوا له حتى تَرَونَ أن قد كافأْتُموه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين؛ فقد تابع عمَّارَ بن رُزَيق على إقامة هذا الإسناد: أبو عَوَانة وجَرِير بن عبد الحميد وعبد العزيز بن مُسلِم القَسْمَلي عن الأعمش. أما حديث أبي عَوانة
سیدنا (عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تم سے اللہ کے نام پر مانگے، تم اس کو عطا کرو، اور جو تم سے اللہ کے نام پر پناہ مانگے تم اس کو پناہ دے دو، اور جو تمہیں دعوت دے تم اس کی دعوت کو قبول کرو اور جو تمہیں تحفہ دے تو تم بھی بدلے میں اس کو تحفہ دو اور اگر تحفہ دینے کی استطاعت نہ ہو تو اس کے لیے اس قدر دعائیں کرو کہ تم خود سمجھو کہ تم نے اس کے تحفہ کا بدلہ دے دیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی سند قائم کرتے ہوئے اعمش سے روایت کرنے میں ابوعوانہ، جریر بن عبدالحمید اور عبدالعزیز بن مسلم القسملی نے عمار بن زریق کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1519]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
ابوعوانہ کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1519M1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
جریر بن عبدالحمید کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1519M2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
عبدالعزیز بن مسلم کی سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ یہ وہ احادیث ہیں جن کی اسناد کے صحیح ہونے پر اتفاق ہے۔ اور ان کو محمد بن ابوعبیدہ بن معن کی اس روایت کی وجہ سے معلل نہیں کہہ سکتے جو انہوں نے اپنے والد کے واسطے سے اعمش کے ذریعے ابراہیم التیمی کے حوالے سے مجاہد سے روایت کی ہے۔ اور اعمش کے پاس اس حدیث کی ایک اور سند بھی ہے اور وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ یہ حدیث اعمش کی دوسری سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1519M3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1520
أخبرَناه عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا الأَسود بن عامر شاذانُ، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَن سَألكم بالله فأَعطُوه، ومن استعاذَكُم بالله فأعِيذُوه، ومن دعاكم فأجِيبُوه" (1) . هذا إسناد صحيح، فقد صحَّ عند الأعمش الإسنادان جميعًا على شرط الشيخين، ونحن على أصلنا في قَبول الزِّيادات من الثقات في الأسانيد والمتون.
اعمش، ابوحازم کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تم سے اللہ کے نام پر مانگے تم اس کو عطا کرو اور جو تم سے اللہ کے نام پر پناہ مانگے تم اس کو پناہ عطا کرو۔ اور جو تمہیں دعوت دے تم اس کی دعوت کو قبول کرو۔ ٭٭ یہ اسناد صحیح ہے۔ چنانچہ اعمش کے حوالے سے دو سندیں صحیح ثابت ہوئی ہیں جو کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہیں۔ اور ہم اسانید اور متون کے حوالے سے ثقہ راوی کی جانب سے ہونے والے اضافے کو قبول کرنے کے سلسلے میں اپنے قانون پر عمل پیرا ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 1520]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں