🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. أفضل الصدقة جهد المقل
سب سے افضل صدقہ تنگ دست کی پوری کوشش سے دیا ہوا صدقہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1524
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدلُ، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه، قال: سمعتُ عمر بن الخطاب يقول: أمَرَنا رسولُ الله ﷺ يومًا أن نتصدَّقَ، فوافَقَ ذلك مالًا عندي، فقلتُ: اليومَ أسبِقُ أبا بكرٍ إن سَبَقتُه يومًا، فجئتُ بنصف مالي، فقال رسولُ الله ﷺ:"ما أبقيتَ لأهلِكَ؟" قلت: مِثلَه. قال: وأتى أبو بكرٍ بكُلِّ ما عندَه، فقال رسولُ الله ﷺ:"ما أبقيتَ لأهلِكَ؟" قال: أبقيتُ لهم اللهَ ورسولَه، فقلت: لا أُسابِقُك إلى شيءٍ أبدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، اتفاق سے اس دن میرے پاس کافی مال تھا، میں نے سوچا کہ اگر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت کرنا چاہوں تو آج کر سکتا ہوں، تو میں اپنا آدھا مال لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے کہا: (جتنا لے کر آیا ہوں) اتنا ہی (گھر والوں کے لیے چھوڑا ہے)۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے ان کے لیے اللہ اور اُس کا رسول چھوڑا ہے۔ میں نے سوچ لیا کہ میں کسی بھی معاملے میں کبھی بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں نکل سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1524]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1524 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، هشام بن سعد وإن كان فيه كلام، ذهب أبو داود إلى توثيقه وقال: هو أثبت الناس في زيد بن أسلم، قال الترمذي في حديثه هذا: حسن صحيح، وقال البزار بعد أن أخرجه في "مسنده" (270): لم نر أحدًا توقف عن حديث هشام بن سعد، ولا اعتل عليه بعلة توجب التوقف عن حديثه. وصحَّحه كذلك شيخ الإسلام ابن تيمية في "منهاج السنة" 8/ 499، وابن الملقن في "البدر المنير" 7/ 414. أبو نُعيم: هو الفضل بن دكين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ہشام بن سعد کے بارے میں اگرچہ کلام ہے لیکن امام ابو داود نے انہیں زید بن اسلم کی روایات میں سب سے زیادہ پختہ قرار دیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا، امام بزار نے کہا کہ ان کی حدیث میں کوئی ایسی علت نہیں جو اسے چھوڑنے کا تقاضا کرے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن الملقن نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1678)، والترمذي (3675) من طرق عن أبي نعيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1678) اور ترمذی (3675) نے ابو نعیم کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔