المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. أفضل الصدقة جهد المقل
سب سے افضل صدقہ تنگ دست کی پوری کوشش سے دیا ہوا صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 1524
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدلُ، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه، قال: سمعتُ عمر بن الخطاب يقول: أمَرَنا رسولُ الله ﷺ يومًا أن نتصدَّقَ، فوافَقَ ذلك مالًا عندي، فقلتُ: اليومَ أسبِقُ أبا بكرٍ إن سَبَقتُه يومًا، فجئتُ بنصف مالي، فقال رسولُ الله ﷺ:"ما أبقيتَ لأهلِكَ؟" قلت: مِثلَه. قال: وأتى أبو بكرٍ بكُلِّ ما عندَه، فقال رسولُ الله ﷺ:"ما أبقيتَ لأهلِكَ؟" قال: أبقيتُ لهم اللهَ ورسولَه، فقلت: لا أُسابِقُك إلى شيءٍ أبدًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، اس وقت میرے پاس اتفاقاً مال موجود تھا، میں نے (دل میں) کہا کہ اگر میں نے کبھی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جانی ہے تو آج میں ان سے آگے بڑھ جاؤں گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر حاضر ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اسی کے برابر (یعنی آدھا مال)“، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا تمام مال لے کر حاضر ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ابوبکر! تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے“، تو میں نے (دل میں) کہا کہ میں کسی بھی معاملے میں آپ سے کبھی نہیں جیت سکتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1524]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، هشام بن سعد وإن كان فيه كلام، ذهب أبو داود إلى توثيقه وقال: هو أثبت الناس في زيد بن أسلم، قال الترمذي في حديثه هذا: حسن صحيح، وقال البزار بعد أن أخرجه في "مسنده" (270): لم نر أحدًا توقف عن حديث هشام بن سعد، ولا اعتل عليه بعلة ...» [ترقيم الرساله 1524] [ترقيم الشركة 1515]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1524 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، هشام بن سعد وإن كان فيه كلام، ذهب أبو داود إلى توثيقه وقال: هو أثبت الناس في زيد بن أسلم، قال الترمذي في حديثه هذا: حسن صحيح، وقال البزار بعد أن أخرجه في "مسنده" (270): لم نر أحدًا توقف عن حديث هشام بن سعد، ولا اعتل عليه بعلة توجب التوقف عن حديثه. وصحَّحه كذلك شيخ الإسلام ابن تيمية في "منهاج السنة" 8/ 499، وابن الملقن في "البدر المنير" 7/ 414. أبو نُعيم: هو الفضل بن دكين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ہشام بن سعد کے بارے میں اگرچہ کلام ہے لیکن امام ابو داود نے انہیں زید بن اسلم کی روایات میں سب سے زیادہ پختہ قرار دیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا، امام بزار نے کہا کہ ان کی حدیث میں کوئی ایسی علت نہیں جو اسے چھوڑنے کا تقاضا کرے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ابن الملقن نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابو نعیم سے مراد الفضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1678)، والترمذي (3675) من طرق عن أبي نعيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (1678) اور ترمذی (3675) نے ابو نعیم کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 1524 in Urdu