🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. أفضل الصدقة جهد المقل
سب سے افضل صدقہ تنگ دست کی پوری کوشش سے دیا ہوا صدقہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1523
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم، حدثنا ابن بُكَير، حدثنا الليث، عن أبي الزُّبير، عن يحيى بن جَعْدَة، عن أبي هريرة أنه قال: يا رسولَ الله، أيُّ الصَّدَقةِ أفضلُ؟ قال:"جُهْدُ المُقِلِّ، وابدأْ بمَن تَعُول" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تنگ دستی کے باوجود محنت کر کے صدقہ دینا اور رشتہ داروں سے آغاز کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الزكاة/حدیث: 1523]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1523 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. أحمد بن إبراهيم: هو ابن ملحان، وابن بكير: هو يحيى بن عبد الله بن بكير، والليث: هو ابن سعد، وأبو الزبير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: احمد بن ابراہیم (ابن ملحان)، ابن بکیر (یحییٰ بن عبد اللہ)، لیث (ابن سعد) اور ابو الزبیر (محمد بن مسلم بن تدرس) سب ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 14/ (8702)، وأبو داود (1677)، وابن حبان (3346) من طرق عن الليث ¤ ¤ ابن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (14/ 8702)، ابو داود (1677) اور ابن حبان (3346) نے لیث بن سعد کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 12/ (7155)، والبخاري (1426) و (1428) و (5355) و (5356) ومسلم (1042)، وأبو داود (1676)، والترمذي (680)، والنسائي (2325) و (2326) و (2336) و (9165)، وابن حبان (3363) و (4243) من طرق عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "أفضل الصدقة ما ترك غنًى، واليد العليا خير من اليد السفلى، وابدأ بمن تعول". هذا لفظ أبي صالح عن أبي هريرة عند البخاري، وبعضهم يختصره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، بخاری (1426 وغیرہ)، مسلم (1042)، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "بہترین صدقہ وہ ہے جو (دینے کے بعد) مالداری چھوڑ جائے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور پہلے ان سے شروع کرو جو تمہاری کفالت میں ہیں"۔ یہ بخاری کے ہاں ابو صالح عن ابی ہریرہ کے الفاظ ہیں۔
وفي باب جُهد المُقِل عن غير واحد من الصحابة، وذكرناها في "المسند" عند الحديث (8702).
🧾 تفصیلِ روایت: "جُہد المقل" (تنگ دست کی محنت) کے باب میں کئی صحابہ سے روایات مروی ہیں جو ہم نے مسند احمد میں حدیث (8702) کے تحت ذکر کی ہیں۔
قوله: "جهد المقل" قال السندي في حاشيته على "المسند": الجهد - بالضم -: الوُسع والطاقة، أي: ما يحتمله حال القليلِ المال، وقيل: أي: مجهوده، لقلة ماله، وإنما يجوز له الإنفاق إذا قدر على الصبر ولم يكن له عيال، وإلّا فالأفضل ما كان عن ظهر غنى.
📌 اہم نکتہ: علامہ سندی کہتے ہیں کہ "جُہد" (پیش کے ساتھ) کا مطلب طاقت اور وسعت ہے، یعنی وہ مال جو تھوڑے مال والا شخص برداشت کر سکے، یا اس کی محنت کی کمائی۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: تنگ دست کے لیے خرچ کرنا اسی صورت میں جائز ہے جب وہ صبر کی طاقت رکھتا ہو اور اس پر عیال (گھر والوں) کی ذمہ داری نہ ہو، ورنہ مالداری کی حالت میں بچت سے صدقہ کرنا ہی افضل ہے۔