🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. أفطر الحاجم والمحجوم
پچھنا لگانے والا اور جسے پچھنا لگایا گیا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1572
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثني أبي، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو قِلابةَ، حدثني أبو أسماءَ، حدثني ثَوْبان قال: خرجتُ مع رسول الله ﷺ لثماني عشرةَ ليلةً خَلَتْ من شهر رمضان، فلمّا كان بالبَقيع نَظَرَ رسولُ الله ﷺ إلى رجلٍ يَحتجمُ، فقال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجِمُ والمَحجُوم" (1) . قد أقام الأوزاعيُّ هذا الإسناد فجوَّده، وبيَّن سماعَ كلِّ واحدٍ من الرواة من صاحبه، وتابعه على ذلك شَيْبان بن عبد الرحمن النَّحْوي وهشام بن أبي عبد الله الدَّستُوائي، وكلُّهم ثقات، فإذًا الحديث صحيحٌ على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. أما حديث شَيبان:
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اٹھارھویں روزے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنت البقیع میں گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پچھنے لگوا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ چکا ہے۔ ٭٭ امام اوزاعی نے اس اسناد کو قائم کیا ہے اور اس کو عمدہ قرار دیا ہے اور اس کے تمام راویوں کا ہر ایک سے سماع ثابت کیا ہے اور اس سلسلے میں شیبان بن عبدالرحمن الخوی اور ہشام بن ابی عبداللہ الدستوائی نے امام اوزاعی کی متابعت کی ہے اور یہ تمام راوی ثقہ ہیں۔ چنانچہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1572]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1572 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، إلّا أنَّه قد ثبت عند الأئمة نسخه، وقد وقع اضطراب في إسناده، قال الترمذي في "العلل الكبير" (208): قلت للبخاري: كيف بما فيه من الاضطراب؟ فقال: كلاهما عندي صحيح. انتهى، يعني حديثي ثوبان هذا وحديث شداد بن أوس الآتي بعد قليل، بل نقل الترمذي عن البخاري قوله: ليس في هذا الباب شيء أصح من حديث شداد بن أوس وثوبان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، لیکن ائمہ کے نزدیک یہ "منسوخ" ثابت ہو چکی ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: اس کی سند میں کچھ اضطراب ہے، مگر امام بخاری کے نزدیک ثوبان اور شداد بن اوس کی دونوں حدیثیں اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہیں۔
الأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو، وأبو قلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرمي، وأبو أسماء: هو عمرو بن مرثد الرحبي، وثوبان: هو مولى رسول الله ﷺ.
👤 راوی پر جرح: اوزاعی (عبدالرحمن بن عمرو)، ابوقلابہ (عبداللہ بن زید الجرمی)، ابواسمہ (عمرو بن مرثد) اور ثوبان (نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام) اس کے راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 37/ (22410) عن أبي المغيرة، وابن حبان (3532) من طريق الوليد بن ¤ ¤ مسلم، كلاهما عن الأوزاعي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/ 22410) نے ابو المغیرہ سے اور ابن حبان (3532) نے ولید بن مسلم کے طریق سے (دونوں نے اوزاعی سے) اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بعده من طريقين آخرين عن يحيى بن أبي كثير، به.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ آگے یحییٰ بن ابی کثیر کے دو دیگر طریقوں سے بھی مروی ہے۔
وأخرجه النسائي (3128) من طريق أيوب السختياني، عن أبي قلابة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (3128) نے ایوب السختیانی عن ابی قلابہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2371)، والنسائي (3123) من طريق مكحول الشامي، والنسائي (3124) من طريق أبي المهلب راشد بن داود، كلاهما عن أبي أسماء الرحبي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2371) اور نسائی نے مکحول الشامی اور راشد بن داود کے طریقوں سے ابواسمہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22431)، وأبو داود (2370)، والنسائي (3121) و (3122) من طريق مكحول، أنَّ شيخًا من الحي أخبره أنَّ ثوبان .. فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (22431) اور ابو داود نے مکحول کے طریق سے روایت کیا کہ قبیلے کے ایک شیخ نے انہیں حضرت ثوبان ؓ کے حوالے سے یہ بات بتائی۔
وأخرجه النسائي (3120) من طريق سعيد بن عبد العزيز عن مكحول، عن ثوبان. ومكحول لم يسمع من ثوبان.
🔍 علّت / فنی نکتہ: نسائی (3120) نے اسے سعید بن عبدالعزیز عن مکحول کی سند سے روایت کیا ہے، مگر مکحول کا سماع حضرت ثوبان ؓ سے ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه أحمد (22371) و (22429) و (22430)، والنسائي (3145 - 3148) من طرق عن ثوبان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور نسائی نے حضرت ثوبان ؓ سے مروی مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن غير واحد من الصحابة غير ما أخرجه المصنف بإثر حديث ثوبان هذا، ذكرناها عند حديث أبي هريرة في "مسند أحمد" 14/ (8768).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں دیگر کئی صحابہ سے بھی روایات مروی ہیں جو ہم نے مسند احمد (14/ 8768) میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے تحت ذکر کی ہیں۔
ونقل الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 6/ 401 عن ابن حزم قوله: صحَّ حديث "أفطر الحاجم والمحجوم" بلا ريب، لكن وجدنا من حديث أبي سعيد: أرخص النبي ﷺ في الحجامة للصائم، وإسناده صحيح فوجب الأخذ به، لأنَّ الرخصة إنما تكون بعد العزيمة، فدلَّ على نسخ الفطر بالحجامة، سواءً كان حاجمًا أو محجومًا. وانظر تمام الكلام على هذه المسألة عند حديث أبي هريرة السابق ذكره في "المسند".
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: حافظ ابن حجر "الفتح" (6/ 401) میں ابن حزم کا قول نقل کرتے ہیں کہ حدیث "پچھنا لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا" بلا شبہ صحیح ہے، لیکن ابوسعید ؓ کی روایت سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے بعد میں اس کی رخصت دے دی تھی۔ 📌 اہم نکتہ: چونکہ رخصت ہمیشہ حکمِ عزیمت کے بعد آتی ہے، اس لیے ثابت ہوا کہ پچھنا لگانے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔