المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. أفطر الحاجم والمحجوم
پچھنا لگانے والا اور جسے پچھنا لگایا گیا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1575
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، حدثنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق. وحدثني أبو بكر محمد بن جعفر المُزكِّي، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا العباس بن عبد العظيم العَنْبري، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، عن السائب بن يزيد، عن رافع بن خَدِيج قال: قال رسول الله ﷺ:"أفطَرَ الحاجمُ والمحجومُ" (1) . وفي حديث إسحاق الدَّبَري: والمُستَحجِم. وقال أبو بكر محمد بن إسحاق في حديثه: سمعتُ العباس بن عبد العظيم يقول: سمعتُ عليَّ بن المَديني يقول: لا أعلمُ في الحاجم والمحجوم حديثًا أصحَّ من هذا (2) . تابعه معاويةُ بن سلَّام عن يحيى بن أبي كثير:
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ٭٭ اور اسحاق الدبری کی روایت کردہ حدیث میں ” والمستحجم “ کے الفاظ ہیں۔ اور ابوبکر محمد بن اسحاق نے اس حدیث کے متعلق عباس بن عبدالعظیم کے حوالے سے علی بن المدینی کا یہ بیان نقل کیا ہے: (علی بن المدینی کہتے ہیں) میری معلومات کے مطابق اس موضوع پر اس سے زیادہ صحیح حدیث کوئی نہیں ہے۔ اس حدیث کو یحیی بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں معاویہ بن سلام نے معمر کی متابعت کی ہے (ان کی روایت کردہ متابع حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1575]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1575 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من أجل إبراهيم بن عبد الله بن قارظ. وهو في "مسند أحمد" 25/ (15828).
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ کی وجہ سے یہ سند جید (بہترین) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (25/ 15828) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3535) عن عمر بن محمد الهمداني، عن العباس بن عبد العظيم العنبري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3535) نے عمر بن محمد الہمدانی کے واسطے سے عباس بن عبدالعظیم العنبري کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (774) من طرق عن عبد الرزاق، به. وقال: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (774) نے عبدالرزاق کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے اور اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
(2) ونقله عن ابن المديني أيضًا الترمذي بإثر الحديث، ونقل نحوه عن أحمد بن حنبل أيضًا، وقد خالف في ذلك عدد من الأئمة، فقد نقل الحافظ ابن حجر في "الفتح" 6/ 399 عن يحيى بن ¤ ¤ معين أنه قال: حديث رافع أضعفها، وعن البخاري أنه قال: هو غير محفوظ، وعن أبي حاتم قوله: هو عندي باطل، قال: وقال الترمذي: سألت إسحاق بن منصور عنه فأبى أن يحدثني به عن عبد الرزاق، وقال: هو غلط، قلت: ما علّته؟ قال: روى هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير بهذا الإسناد حديث: "مهر البغيِّ خبيث"، وروى عن يحيى عن أبي قلابة أنَّ أبا أسماء حدثه أنَّ ثوبان أخبره به، فهذا هو المحفوظ عن يحيى، فكأنه دخل لمعمر حديثٌ في حديث، والله أعلم.
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام ترمذی نے حدیث کے فوراً بعد اسے ابن المدینی سے نقل کیا ہے، اور اسی طرح کا قول امام احمد بن حنبل سے بھی مروی ہے۔ تاہم ائمہ کی ایک جماعت نے اس کی مخالفت کی ہے۔ حافظ ابن حجر نے "الفتح" (6/ 399) میں یحییٰ بن معین کا قول نقل کیا کہ: "رافع کی حدیث ان سب میں کمزور ہے"۔ امام بخاری نے اسے "غیر محفوظ" اور ابو حاتم نے اسے "باطل" قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے اسحاق بن منصور سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے عبد الرزاق کے واسطے سے اسے بیان کرنے سے انکار کیا اور فرمایا کہ یہ "غلط" ہے۔ 📝 توضیح: اس کی علت یہ ہے کہ ہشام الدستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ "مہر البغی خبیث" (بدکار عورت کی اجرت ناپاک ہے) کی حدیث روایت کی ہے، جبکہ محفوظ روایت وہی ہے جو یحییٰ عن ابی قلابہ عن ابی اسماء عن ثوبان کی سند سے ہے؛ لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ معمر سے ایک حدیث دوسری حدیث میں خلط ملط (داخل) ہوگئی ہے۔