المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. استحباب الإفطار على التمر
کھجور سے افطار کرنے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1590
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعبة، عن عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن وَجَدَ تمرًا فليُفطِرْ عليه، ومن لا فليُفطِرْ على الماء، فإنه طَهور" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کھجور میسر ہو وہ اس سے افطار کرے، اور جسے نہ ملے وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1590]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1590]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1590 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح من فعل النبي ﷺ، وهذا إسناد أخطأ فيه سعيد بن عامر الضُّبعي، فقد قال البخاري كما في "العلل الكبير" للترمذي (195): حديث سعيد بن عامر وهم. وقال الترمذي في "سننه": لا نعلم أحدًا رواه عن شعبة مثل هذا غير سعيد بن عامر، وهو حديث غير محفوظ، ولا نعلم له أصلًا من حديث عبد العزيز بن صهيب عن أنس … ثم قال: والصحيح ما روى سفيان الثوري وابن عيينة وغير واحد عن عاصم الأحول، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر. ونحو ذلك قال النسائي، وحديث سلمان بن عامر هو الآتي بعد هذا. لكن ثبت الإفطار على التمر أو على الماء عند عدمه من فعله ﷺ من حديث أنس، كما سيأتي برقم (1592).
🔍 علّت / فنی نکتہ: امام بخاری کے نزدیک سعید بن عامر الضبعی سے اس کی سند میں وہم ہوا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ شعبہ سے اسے صرف سعید بن عامر نے ہی اس طرح روایت کیا ہے اور یہ "غیر محفوظ" (غلطی والی) روایت ہے۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: درست بات وہی ہے جو سفیان ثوری اور دیگر نے عاصم الاحول عن حفصہ عن الرباب عن سلمان بن عامر کی سند سے روایت کی ہے جو آگے آ رہی ہے۔ تاہم کھجور یا پانی سے افطار کرنا حضرت انس ؓ کی حدیث (رقم 1592) سے ثابت ہے۔
وأخرجه الترمذي (694)، والنسائي (3303) و (6679) عن محمد بن عمر المقدَّمي، عن سعيد بن عامر، بهذا الإسناد. وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (694) اور نسائی نے محمد بن عمر المقدمی عن سعید بن عامر کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔