🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. إجازة الصوم فى السفر
سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1597
أخبرَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا محمد بن عبد المجيد المَدِيني، قال: سمعت حمزة بن محمد بن حمزة بن عمرو الأسْلَمي يَذكُر أنَّ أباه أخبره، عن جدِّه حمزة بن عمرو قال: قلتُ: يا رسول الله، إنِّي صاحب ظَهْرٍ أُعالِجُه، أُسافر عليه وأَكْرِيهِ، وإنه ربما صادَفَني هذا الشهرُ - يعني شهرَ رمضان - وأنا أجدُ القُوَّة، وأنا شابٌّ، وأجِدُني أن أصومَ يا رسول الله أهونُ عليَّ من أن أُؤخِّرَه فيكونَ دَينًا، أفأصومُ يا رسول الله أعظمُ لأجري أو أُفطِر؟ قال:"أيَّ ذلك شئتَ يا حمزة" (2) .
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک مال بردار اونٹ ہے، جس کی میں مشق کراتا رہتا ہوں، میں خود بھی اس پر سفر کرتا ہوں اور اسے کرایہ پر بھی دیتا ہوں۔ اور کئی مرتبہ ماہِ رمضان المبارک میں بھی سفر کا اتفاق ہو جاتا ہے، میں طاقت رکھتا ہوں اور میں جوان بھی ہوں اور میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ روزہ چھوڑنے اور اپنے ذمہ اس کا بوجھ رکھنے کی بجائے روزہ رکھنا میرے لیے زیادہ آسان ہے، تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرا روزہ رکھنا زیادہ اجر کا باعث ہے یا روزہ چھوڑنا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے حمزہ! تم جیسے چاہو، اسی طرح کر لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1597]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1597 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبد المجيد المديني وشيخه حمزة بن محمد بن حمزة، لكن روي الحديث من وجوه أخرى.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند محمد بن عبدالمجید المدینی اور حمزہ بن محمد کی جہالت (عدم معرفت) کی وجہ سے ضعیف ہے، البتہ یہ حدیث دیگر درست سندوں سے مروی ہے۔
وأخرجه أبو داود (2403) عن عبد الله بن محمد النفيلي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2403) نے عبد اللہ بن محمد النفیلی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 25/ (16037)، والنسائي (2614) و (2615) و (2617) و (2618) و (2620) من طريق سليمان بن يسار، عن حمزة بن عمرو الأسلمي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم میں احمد (25/ 16037) اور نسائی نے سلیمان بن یسار عن حمزہ بن عمرو الاسلمی کی سند سے روایت کیا ہے۔
وهذا إسناد منقطع، فإنَّ سليمان بن يسار لم يسمعه من حمزة، بينهما أبو مراوح الغفاري، فقد أخرجه النسائي نفسه (2622) من طريق سليمان بن يسار، عن أبي مراوح، عن حمزة بن عمرو الأسلمي. وأبو مراوح ثقة.
🔍 علّت / فنی نکتہ: یہ سند منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن یسار نے حمزہ ؓ سے براہ راست نہیں سنا، ان کے درمیان "ابو مراوح الغفاری" کا واسطہ ہے جیسا کہ نسائی (2622) کی دوسری روایت سے واضح ہے۔ ابو مراوح ثقہ ہیں۔
وأخرجه النسائي (2624) من طريق عروة بن الزبير، عن حمزة بن عمرو. ¤ ¤ وعروة أيضًا إنما سمعه من أبي مراوح عن حمزة، كما أخرجه مسلم (1121) (107)، والنسائي (2623)، وابن حبان (3567) من طريق عروة بن الزبير، عن أبي مراوح، عن حمزة بن عمرو.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی (2624) نے اسے عروہ بن زبیر عن حمزہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: عروہ نے بھی یہ روایت ابو مراوح سے سنی تھی جیسا کہ مسلم (1121/ 107) اور ابن حبان (3567) کی سندوں سے ثابت ہے۔
وأخرجه النسائي (2619) من طريق أبي سلمة بن عبد الرحمن، و (2620) و (2621) من طريق حنظلة بن علي، كلاهما عن حمزة بن عمرو.
📖 حوالہ / مصدر: نسائی نے اسے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور حنظلہ بن علی کے طریقوں سے بھی حضرت حمزہ ؓ سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (2616) من طريق سليمان بن يسار: أنَّ حمزة بن عمرو قال: يا رسول الله … فذكره مرسلًا.
⚠️ سندی اختلاف: نسائی (2616) نے سلیمان بن یسار کی سند سے اسے "مرسل" (نبی ﷺ تک براہ راست) بھی روایت کیا ہے۔
وقد روت عائشة الحديث: أنَّ حمزة بن عمرو سأل رسول الله ﷺ .. أخرجه من حديثها أحمد 40/ (24196)، والبخاري (1942) و (1943)، ومسلم (1121) (103 - 106)، وأبو داود (2402)، والنسائي (2627) و (2628) و (2629)، وابن حبان (3560).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عائشہ ؓ سے بھی یہ روایت مروی ہے کہ حضرت حمزہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا... اسے احمد، بخاری، مسلم، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔