🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. إجازة الصوم فى السفر
سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1598
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سلمة، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ سافَرَ في رمضان، فاشتدَّ الصوم على رجل من أصحابه، فجعلت راحلتُه تَهِيمُ به تحت الشجرة، فأُخبِر النبيُّ ﷺ بأمرِه، فأَمَرَه أن يُفطِر، ثم دعا النبيُّ ﷺ بإناءٍ فوَضَعَه على يده، ثم شَرِبَ والناسُ ينظرون (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رمضان میں سفر پر تھے تو آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کو روزے کی بہت شدت محسوس ہوئی تو اس کی سواری ایک درخت کے نیچے تھک کر بیٹھ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ کی اطلاع دی۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو روزہ چھورنے کا حکم دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اس کو تھمایا، اس شخص نے پانی پیا اور لوگ اس کو دیکھ رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1598]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1598 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو الزبير - وهو محمد بن مسلم بن تدرس - صرح بالسماع عند أحمد وغيره.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 👤 راوی پر جرح: ابو الزبیر (محمد بن مسلم بن تدرس) نے امام احمد کے ہاں سماع (براہ راست سننے) کی تصریح کی ہے۔
وأخرجه ابن حبان (3565) من طريق عبد الأعلى بن حماد، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (3565) نے عبد الاعلیٰ بن حماد عن حماد بن سلمہ کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 22/ (14529) من طريق زكريا بن إسحاق، و (14530) من طريق إبراهيم بن طهمان، كلاهما عن أبي الزبير، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے زکریا بن اسحاق اور ابراہیم بن طہمانی کے طریقوں سے ابوالزبیر سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 22/ (14508) من طريق حسين بن واقد، عن أبي الزبير قال: سمعت جابرًا يقول: مرَّ النبي ﷺ برجل يقلِّب ظهرَه لبطن، فسأل عنه، فقالوا: صائم يا نبي الله، فدعاه، وأمره أن يفطر فقال: "أما يكفيك في سبيل الله، ومع رسول الله، حتى تصوم! "
🧾 تفصیلِ روایت: احمد (22/ 14508) نے حسین بن واقد کی سند سے روایت کیا کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا: "نبی ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو (کمزوری سے) لوٹ پوٹ ہو رہا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ روزے دار ہے، آپ ﷺ نے اسے بلا کر افطار کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تمہیں اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہونا کافی نہیں کہ تم روزہ بھی رکھو! (یعنی سفر میں تنگی نہ اٹھاؤ)"۔
وأخرج أحمد 22/ (14193) و (14410) و (14426) و 23/ (15282)، والبخاري (1946)، ومسلم (1115)، وأبو داود (2407)، والنسائي (2582)، وابن حبان (3552) من طريق محمد بن عمر بن الحسن بن علي بن أبي طالب، عن جابر قال: كان رسول الله ﷺ في سفر، فرأى زحامًا ورجلًا قد ظُلِّل عليه، فقال: "ما هذا؟ " قالوا: صائم، فقال: "ليس من البر الصوم في ¤ ¤ السفر"، واللفظ للبخاري.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، بخاری (1946)، مسلم (1115)، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سفر میں ہجوم دیکھا اور ایک شخص پر سایہ کیا گیا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا "یہ کیا ہے؟" لوگوں نے کہا "روزے دار"، آپ ﷺ نے فرمایا: "سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے"۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔
وأخرج نحوه النسائي (2577) و (2578)، وابن حبان (2553) و (3554) من طريق محمد بن عبد الرحمن بن زرارة، عن جابر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح نسائی اور ابن حبان نے محمد بن عبدالرحمن بن زرارہ عن جابر ؓ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج مسلم (1114)، والترمذي (710)، والنسائي (2583)، وابن حبان (2706) و (3549) و (3550) من طريق محمد بن علي الباقر، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ خرج عام الفتح إلى مكة في رمضان، فصام، حتى بلغ كُراع الغَميم، فصام الناس - وفي رواية: فقيل له: إنَّ الناس قد شقَّ عليهم الصيام، وإنما ينظرون فيما فعلت - ثم دعا بقدح من ماء فرفعه، حتى نظر الناس إليه، ثم شرب، فقيل له بعد ذلك: إنَّ بعض الناس قد صام، فقال: "أولئك العصاة، أولئك العصاة"، واللفظ لمسلم.
📖 حوالہ / مصدر: مسلم (1114) اور ترمذی (710) نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ کے لیے نکلے، آپ ﷺ روزے سے تھے یہاں تک کہ "کراع الغمیم" پہنچ گئے، لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ سے کہا گیا کہ لوگوں پر روزہ شاق (سخت) گزر رہا ہے اور وہ آپ کے عمل کے منتظر ہیں۔ آپ ﷺ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے اتنا بلند کیا کہ سب دیکھ لیں، پھر آپ ﷺ نے پانی پی لیا۔ بعد میں بتایا گیا کہ کچھ لوگوں نے اب بھی روزہ رکھا ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے (دو بار) فرمایا: "وہ نافرمان ہیں، وہ نافرمان ہیں"۔ یہ مسلم کے الفاظ ہیں۔
وانظر شواهده وتمام تخريجه في تعليقنا على "المسند" 22/ (14193).
📝 توضیح: اس کے شواہد اور مکمل تخریج کے لیے مسند احمد (22/ 14193) پر ہماری تعلیق دیکھیں۔